سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں بھارتی پراکسی تنظیم ’فتنہ الہندوستان کے 5 دہشتگردوں ہلاک ہوگئے، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی تنظیم ’فتنہ الہندوستان کے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے۔
پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 26 مئی کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 2 مختلف کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسی تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ کے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 28 مئی کو بلوچستان کے ضلع لورالائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا، سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشتگرد مارے گئے، دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، ہلاک دہشتگرد پاکستان میں دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ میں بھی فتنہ الہندوستان کا ایک دہشتگرد مارا گیا ہے، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، دہشتگردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولتکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی ایس پی آر بلوچستان بھارتی پراکسی تنظیم پاکستان فتنہ الہندوستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر بلوچستان بھارتی پراکسی تنظیم پاکستان فتنہ الہندوستان بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان کے سیکیورٹی فورسز ا ئی ایس پی ا ر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔