اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) واپڈا کے فور پراجیکٹ پر کئی اہم اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کر چکا ہے۔ پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ جون  میں مکمل ہو گا۔ تاہم پراجیکٹ کی شیڈول کے مطابق تکمیل کے لیے درکار فنڈز کی وقت پر دستیابی بہت اہم ہے۔ چیئرمین واپڈا انجنیئر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی  نے  فور پراجیکٹ کے دورے کے دوران پراجیکٹ کی مختلف اہم سائٹس پر تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ان اہم سائٹس میں کینجھر جھیل پر زیر تعمیر ان ٹیک (intake)، پمپنگ سٹیشن اور کینجھر جھیل سے کراچی تک بچھائی جانے والی پریشرائزڈ پائپ لائنز شامل ہیں۔ پراجیکٹ ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز نے چیئرمین واپڈا کو پراجیکٹ کے تمام 8 کنٹریکٹس پر تعمیراتی پیش رفت بارے بریفنگ دی۔کہ  ریلوے لائن کے نیچے تعمیر کی گئیں (sleeve pipes) میں سے پانی لے جانے والی پائپ لائنز کو گزارنا اور پراجیکٹ کی پہلی 15 کلومیٹر پائپ لائن پر ہائیڈرو سٹیٹک (Hydrostatic) ٹیسٹنگ کی کامیاب تکمیل شامل ہیں۔ کے فور پراجیکٹ کینجھر جھیل سے کراچی کو 650 ملین گیلن  پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہو گا۔ واپڈا اس وقت منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام کر رہا ہے جس کی تکمیل پر کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی مہیا ہو گا۔ جبکہ دوسرا مرحلہ مکمل ہونے پر کراچی کو 390 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا سکے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: فور پراجیکٹ پراجیکٹ کی مکمل ہو

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا