حکومت کا زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری تمام سمز فوری بلاک کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری تمام سمز فوری طور پر بلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا، پہلے مرحلے میں 2017 اور اس سے پہلے کے شناختی کارڈز پر جاری سمز بند ہوں گی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کرکے اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں بڑے فیصلے کیے گئے، اگلے مراحل میں 2017 کے بعد کے منسوخ شدہ کارڈز پر بھی یہی پالیسی لاگو کی جائے گی تاکہ صرف فعال شناختی کارڈ پر ہی سمز جاری رہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق پی ٹی اے کے تعاون سے ان موبائل سمز کو بلاک کیا جا رہا ہے جو وفات پا جانے والے افراد یا میعاد ختم شدہ شناختی کارڈز کے حامل افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔
آزادکشمیر میں خفیہ اطلاعات پر ہونیوالے آپریشن کے دوران ساتھیوں سمیت مارا جانے والا ’ زرنوش نسیم ‘ کون ہے؟ وہ معلومات جو آپ جاننا چاہتے ہیں
اجلاس میں بتایا گیا کہ مختلف سرکاری محکمے اور سروس فراہم کنندگان شہریوں کی بائیومیٹرک معلومات اپنی مقامی ڈیٹابیسز میں محفوظ کر رہے ہیں، جس سے یہ حساس معلومات غلط استعمال اور چوری کے خطرے سے دوچار ہیں۔
چیئرمین نادرا نے کہا کہ نادرا کے محفوظ اور تصدیق شدہ ڈیٹا بیس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فیشل ریکگنیشن نظام کا استعمال کیا جائے، خاص طور پر ان شہریوں کی مدد کے لیے اس نظام کا استعمال کیا جائے جنہیں فنگر پرنٹس کی تصدیق میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ وزارت داخلہ کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو شہریوں کی بائیومیٹرک معلومات کی علیحدہ سٹوریج بند کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں گی۔
حکومت بجلی شعبے کے گردشی قرضے ختم کرنے کے معاہدے کے قریب ہے : اویس لغاری
محسن نقوی نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں چہرہ شناسی (فیشل ریکگنیشن) ٹیکنالوجی کے نفاذ کو 31 دسمبر 2025 تک یقینی بنایا جائے، اس عمل کی نگرانی وزارت داخلہ کرے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نادرا کی سروسز کو ملک بھر کی 44 ایسی تحصیلوں اور مخصوص یونین کونسلوں تک توسیع دی گئی ہے جہاں یہ سہولتیں دستیاب نہیں تھیں۔
وزیر داخلہ نے کہاکہ اسلام آباد کی تمام 31 یونین کونسلز میں 30 جون 2025 تک نادرا خدمات دستیاب ہوں گی، وزیر داخلہ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور وزارت خارجہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ایک جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ ان ممالک اور خطوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں نادرا خدمات کی زیادہ ضرورت ہے۔
پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرےگا، وزیراعظم کا بھارت کو پیغام
وزیر داخلہ نے ملتان، سکھر اور گوادر میں نادرا کے ریجنل دفاتر کے قیام کی منظوری دی، چیئرمین نادرا نے ادارے کی رسائی، سروس ڈیلیوری اور ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکٹر آئی 8 میں 10 منزلہ نادرا میگا سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا، میگا سنٹر کی تکمیل جون 2026 میں متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شناختی کارڈز محسن نقوی نے وزیر داخلہ کارڈز پر
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔