پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا: وزیر اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں عالمی ماحولیاتی چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گلیشیئرز کے تحفظ پر زور دیا اور اس اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر تاجک صدر کو مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے اسے قابلِ مذمت قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں پاکستان کو شدید سیلاب اور طوفانی بارشوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو نہ صرف قدرتی حسن کا حصہ ہیں بلکہ پاکستان کے آبی وسائل کا بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پانی کا تقریباً نصف حصہ گلیشیئرز سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے ان کا تحفظ ہمارے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا زہریلی گیسوں کے اخراج میں حصہ عالمی سطح پر نصف فیصد سے بھی کم ہے، اس کے باوجود ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے قدرتی ایکو سسٹم کو بھی متاثر کیا ہے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری، خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ملکوں میں ارلی وارننگ سسٹم کے قیام اور دیگر ماحولیاتی اقدامات میں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان شہباز شریف
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔