ٹوکیو،پاکستانی سفارتخانے کا وزیر تجارت جام کمال خان کے اعزاز میں بزنس نیٹ ورکنگ ڈنر کا انعقاد، جاپانی سرکاری عہدیداران، کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان اور پاکستانی کمیونٹی نے شرکت کی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
ٹوکیو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 مئی2025ء) جاپان میں پاکستانی سفارتخانے نے وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان کے اعزاز میں بزنس نیٹ ورکنگ ڈنر کا انعقاد کیا جس میں جاپانی اعلیٰ سرکاری عہدیداران، ممتاز کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندگان اور پاکستانی کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔ جمعے کو وزارت کے جاری اعلامیے کے مطابق تقریب سے خطاب میں جام کمال خان نے جاپان کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔
(جاری ہے)
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان آئی ٹی، معدنیات، زراعت اور قابل تجدید توانائی جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع فراہم کر رہا ہے، جاپانی سرمایہ کاروں کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے فائدہ حاصل ہوگا۔وفاقی وزیر نے جاپان میں پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اوورسیز پاکستانی دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تقریب میں دونوں ممالک نے باہمی اقتصادی تعاون کے فروغ اور مستقبل میں مضبوط و فائدہ مند شراکت داری کی خواہش کا اعادہ کیا۔\932.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جام کمال خان
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں