احتجاج پر پابندی ہے، شہری غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں، اسلام آباد انتظامیہ کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
احتجاج پر پابندی ہے، شہری غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں، اسلام آباد انتظامیہ کی وارننگ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں احتجاج پر پابندی ہے، شہری غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔
وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر ترجمان ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کردیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، شہر میں کسی بھی قسم کے احتجاج اورمظاہرے پر پابندی عائد ہے۔ شہر میں کسی بھی قسم کا احتجاج اسمبلی ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ روز احتجاج کرنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا، گزشتہ روز قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف اندراج مقدمہ بھی کیا گیا، اگردوبارہ قانون کی خلاف ورزی کرکے احتجاج ہوا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی، شہریوں سے گزارش ہے کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا پاکستان اور بھارت 22اپریل سے پہلے کی صورتحال پر واپس آ گئے ہیں، جنرل ساحر شمشاد مرزا نو مئی تھانہ رمنا حملہ کیس : پی ٹی آئی ایم این اے سمیت 11 مجرموں کو 15 سال 4 ماہ قید کی سزا وزیراعظم کا 4 ملکی دورہ مکمل، تاجکستان سے وطن واپس پہنچ گئے صدر زرداری کو علاج کیلئے دبئی جانے سے کیوں روکا گیا تھا؟ فرحت اللہ بابر کی کتاب میں انکشافات سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ناقابل قبول؛ بھارت کو ریڈلائن عبور نہیں کرنے دینگے، وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں اسلام آباد پر پابندی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔