اسرائیل کا نیا اعلان: مغربی کنارے میں 22 نئی غیر قانونی بستیاں قائم ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
مقبوضہ بیت المقدس : اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی جارحانہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے 22 نئی غیر قانونی یہودی بستیوں کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کیا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کی اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا اور فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے۔
وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ، جو خود بھی ایک غیر قانونی بستی میں رہائش پذیر ہیں، نے اسے "تاریخی فیصلہ" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل اسرائیل اور اردن کی سرحد پر یہودی موجودگی کو تقویت دے گا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود پارٹی نے بھی اس اقدام کو اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ اسرائیلی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اب تک 100 سے زائد غیر قانونی یہودی بستیاں مغربی کنارے میں تعمیر کر چکا ہے، جہاں 5 لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔ ان بستیوں میں چھوٹے آؤٹ پوسٹس سے لے کر جدید سہولیات سے آراستہ آبادیاں شامل ہیں۔
ادھر 30 لاکھ سے زائد فلسطینی مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی قبضے کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کو صرف چند علاقوں میں محدود اختیارات حاصل ہیں۔
فلسطینی عوام مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں، اور اسرائیلی اقدامات کو اس خواب کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔