نائیجیریا میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی؛ 88 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
نائیجیریا میں مسلسل ہونے والی بارشوں نے سیلابی کیفیت اختیار کرلی جس میں پورا ایک قصبہ ڈوب گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نائیجیریا میں بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان ریاست نائجر کے قصبے موکوا ہوا۔
یہ قصبہ جو بازاروں سے بھرا ہوا ہے ڈیم کے ٹوٹنے کے باعث سیلابی ریلے میں ڈوب گیا جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
نائیجیریا کے اس قصبے میں ملک بھر سے تاجر اور شمالی علاقوں کے زرعی پیداوار کرنے والے کسان بڑی تعداد میں آتے ہیں۔
ریسکیو ٹیم کے انچارج نے بتایا کہ شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب میں 88 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔عوام سے محتاط رہنے اور نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی اپیل ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں بھی شمال مشرقی شہر میڈوگوری میں اسی نوعیت کے سیلاب اور ڈیم کے ٹوٹنے سے کم از کم 30 افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہوگئے تھے۔
نائیجیریا میں ہر سال دریائے نائجر اور بینو کے کنارے بسنے والے موسمی بارشوں کے باعث شدید سیلابوں کا سامنا کرتے ہیں جو جان و مال کے بھاری نقصان کا سبب بنتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نائیجیریا میں
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.