سانحہ مورو کی تحقیقات کیلئے غیر جانبدار کمیشن بنائی جائے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام اور شہداء کے ورثاء کا مسلسل مطالبہ ہے کہ سانحہ مورو کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ سانحہ مورو کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ انکا کہنا ہے کہ سندھ میں سرگرم ڈاکوؤں، خصوصاً کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے اور عوام کو ڈاکو راج سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ دھرتی کے فرزند شہید عرفان لغاری اور شہید زاہد لغاری کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر شمعیں روشن کی گئیں اور شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ یہ شمع شہداء سندھ کی غیرت، حریت اور مزاحمت کی علامت کے طور پر روشن کی گئی، تاکہ مظلوموں کی آواز بننے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔
اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی تحریک کے کارکنوں پر تشدد اور انتقامی کارروائیاں کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ سندھ کے عوام اور شہداء کے ورثاء کا مسلسل مطالبہ ہے کہ سانحہ مورو کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ غیر جانبدارانہ تحقیقات سے خوفزدہ ہو کر اپنے ماتحت پولیس افسران پر مشتمل ایک جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دے چکی ہے، جسے سندھ کے عوام اور شہداء کے وارث مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم رہنماء نے کہا کہ سندھ کے عوام وارثان شہداء کت چھ مطالبات ہیں۔ انکا مطالبہ ہے کہ سانحہ مورو کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
دوسرا مطالبہ ہے کہ تمام گرفتار سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔ تیسرا مطالبہ ہے کہ سندھ میں سرگرم ڈاکوؤں، خصوصاً کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے اور عوام کو ڈاکو راج سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ چوتھا مطالبہ ہے کہ بدامنی کے باعث وسیع پیمانے پر ہندو برادری کی نقل مکانی پر شدید تشویش ہے۔ تاجر برادری خصوصاً ہندووں کو مکمل تحفظ دیا جائے تاکہ ہندوؤں کی یہ نقل مکانی روکی جا سکے، اور تاجروں و شہریوں سے ہونے والی بھتہ خوری کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ پانچواں مطالبہ ہے کہ دریائے سندھ پر ناجائز و غیر قانونی نہروں (کینالز) کی تعمیرات کا مستقل سدِ باب کیا جائے، اور کسی ایسی اسکیم کی اجازت نہ دی جائے جس سے سندھ کے پانی کا بہاؤ روکا جائے یا سندھ کی زرعی زمینیں بنجر ہوں۔ آخری مطالبہ ہے کہ سندھ کی زرعی زمین کی بندر بانٹ اور کارپوریٹ فارمنگ سے متعلق عوامی خدشات کو دور کیا جائے، اور لاکھوں ایکڑ زمین کی بندربانٹ کا سلسلہ روکا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہے کہ سانحہ مورو کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سندھ کے عوام مطالبہ ہے کہ علامہ مقصود ہے کہ سندھ اور شہداء
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔