فلسطینیوں کی حمایت! ترک کھلاڑی نے گولڈ میڈل دریا ئے نیل میں پھینک دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
لاہور(سپورٹس رپورٹر)ترک کنگ فو چیمپئن نے اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے خلاف اور فلسطینی عوام سے یکجہتی کے طور پر احتجاجاً اپنا یورپی چیمپئن شپ میں جیتا ہوا سونے کا تمغہ دریائے نیل میں پھینک دیا۔رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے معروف کنگ فو فائٹر نجم الدین اربکان آکیوز نے فلسطین میں اسرائیلی نسل کشی پر یورپی چیمپئن شپ کی جانب سے حمایت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنا طلائی تمغہ مصر میں دریائے نیل میں پھینک دیا۔2023 ء کی یورپی چیمپئن شپ میں ترک کھلاڑی نے کنگ فو ٹائٹل اپنے نام کیا تھا اور جیت کے بعد انہوں نے تقریب میں فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے فلسطین کا جھنڈا لہرا کر جشن منایا تھا۔ان کا یہ عمل حکام کو پسند نہ آیا جس کے بعد ان کیخلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور ان کا ٹائٹل بھی معطل کردیا تھا لیکن وہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔تاہم26 مئی کو احتجاجاً ترک کنگ فو فائٹر نے ایکس پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں انہوں نے کہا کہ اْن کی کوئی بھی کامیابی مظلوم فلسطینیوں کے خون کے ایک قطرے سے زیادہ قیمتی نہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنا سونے کا تمغہ دریائے نیل میں پھینک دیا۔ترک کھلاڑی نے اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میں نے یورپی چیمپئن شپ میں اپنی محنت سے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، جسے یہودیوں نے مجھ پر کسی احسان کی طرح دکھایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: یورپی چیمپئن شپ کنگ فو
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ