عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کی جانب سے بِٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلجنس کے شعبوں کو بجلی فراہم کرنے کے حالیہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس فیصلے پر نہ صرف وضاحت طلب کی ہے بلکہ اسے قرض پروگرام کی شرائط کے برخلاف قرار دیا ہے رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے اعتراض اٹھایا ہے کہ حکومت نے نہ صرف اس اقدام سے قبل فنڈ کو اعتماد میں نہیں لیا بلکہ بجلی کے ٹیرف سے متعلق بھی کوئی مشاورت نہیں کی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ قرض پروگرام کے دوران کوئی بھی پالیسی فیصلہ مشاورت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کی فراہمی کے حوالے سے خاص طور پر اس بات پر سوالات اٹھائے ہیں کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی تاحال قانونی حیثیت نہیں رکھتی ایسے میں اس شعبے کے لیے بجلی مختص کرنا کئی قانونی و مالیاتی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان اس معاملے پر ورچوئل بات چیت بھی متوقع ہے جس میں بِٹ کوائن مائننگ کے لیے بجلی کی فراہمی اور اس پر لاگو ٹیرف کے حوالے سے تفصیلات طلب کی جائیں گی دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزارت خزانہ کے ترجمان نے اس معاملے پر تاحال کسی بھی مؤقف دینے سے گریز کیا ہے ذرائع کے مطابق پاکستان کی معاشی ٹیم کو آئندہ بجٹ کے سلسلے میں جاری مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے کڑے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام پر آئی ایم ایف کی جانب سے مزید سخت مؤقف اور مذاکرات میں دباؤ بڑھنے کا امکان ہے جو آنے والے مالیاتی فیصلوں پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف نے کے مطابق

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ