بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ٹرالر مافیا موجود ہے: مولانا ہدایت الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
رکنِ صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے مفاد میں کام کےلیے حکومت کے ساتھ ہیں، کس محکمے میں کیا ہو رہا ہے سب کو معلوم ہے، بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ٹرالر مافیا موجود ہے۔
ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیرِ صدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔
مولانا ہدایت الرحمان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعلیٰ کسی بلیک میلنگ میں نہ آئیں، اپوزیشن بھی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی، اپوزیش کی توہین نہ کی جائے، احتجاج کرنا ہمارا حق ہے۔
اجلاس کے آغاز میں اے ڈی سی سوراب ہدایت بلیدی کی روح کےلیے ایصالِ ثواب کےلیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
وزیر پی اینڈ ڈی ظہور بلیدی نے اس موقع پر کہا کہ سوراب واقعہ کی مذمت کرتا ہوں، سوراب میں کل انتہائی اندوہناک واقعہ پیش آیا، فتنہ الہند نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، ایسے عناصر کی بیخ کنی کا وقت آگیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے کہا کہ ایوان میں ہمارے سوالات کے جوابات نہیں دیے جاتے، بیورو کریسی ہمارے خطوط کے جوابات نہیں دیتی، اسپیکر رولنگ دیں۔
اس پر ڈپٹی اسپیکر رولنگ، وزیر سلیم کھوسہ کا کہنا تھا کہ معلومات کا حصول آپ لوگوں کا حق ہے، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، سیکریٹریز حکومت اور اپوزیشن اراکین کے ساتھ تعاون کریں۔
رکنِ اسمبلی، مشیر برائے فشریز برکت رند نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سمندر میں غیرقانونی ٹرالر مافیا کے خلاف آپریشن جاری ہے، گزشتہ دو روز کے دوران فشریز نے 3 ٹرالر پکڑے اور کیس بھی فائل کیا۔
رکن نیشنل پارٹی رحمت بلوچ نے کہا کہ اےڈی سی کے قتل اور املاک کو نقصان پہنچانے کی مذمت کرتے ہیں، اپوزیشن رہنماؤں کا احترام کیا جائے، پروٹوکول دیا جائے، کسی تقریب میں جائیں تو اپوزیشن ارکان کےلیے نشست مختص نہیں ہوتی، ہم عوامی نمائندے ہیں، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔