مرکزی اور ریاستی حکومتیں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، پولٹ بیورو
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کیساتھ ایک طے شدہ طریقے سے نمٹے اور ہندوستانی مسلمانوں کو بلاوجہ نشانہ نہ بنائے۔ اسلام ٹائمز۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے بعد غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے درمیان بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بغیر کسی تصدیق کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ ایک طے شدہ طریقے سے نمٹے اور ہندوستانی مسلمانوں کو بلاوجہ نشانہ نہ بنائے۔ ایک بیان میں سی پی آئی (ایم) کے لیڈر پولٹ بیورو نے کہا کہ وہ مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کی ملک بدری کی مذمت کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو ان لوگوں کے ساتھ جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوئے ہیں، طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق نمٹنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت خاص طور پر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور بغیر کسی تصدیق کے انہیں بنگلہ دیش دھکیلا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ رپورٹس کے مطابق کچھ حقیقی ہندوستانی شہریوں کو بھی گرفتار کر کے بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہاں تک کہ وہ شہری بھی جنہیں غیر ملکی ٹریبونل نے غیر ملکی شہری قرار دیا تھا، لیکن جن کی اپیلیں آسام کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہیں، انہیں بھی زبردستی ملک بدر کیا گیا ہے، اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے۔
وہیں آسام میں عوام کو اسلحے کا لائسنس جاری کرنے کے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ بی جے پی کی زیر قیادت آسام حکومت جارحانہ طور پر اپنی فرقہ وارانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور اب اس نے مقامی لوگوں کو مسلح کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خطرناک فیصلہ ہے جس کے بہت دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ طور پر منتخب طبقات کو مسلح کرنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے مطالبہ کیا کہ حکومت غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لئے مذہب کا استعمال نہ کرے۔ پارٹی نے کہ جو لوگ غیر قانونی طریقوں سے ملک میں داخل ہوئے ہیں انھیں منصفانہ ٹرائل تک رسائی کی اجازت دی جانی چاہیئے۔ٗٗ
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قانونی تارکین وطن مسلمانوں کو نے کہا کہ پارٹی نے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں