لاہور (نوائے وقت رپورٹ) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی، دفاعی اور معاشی استحکام کا جاری رہنا ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اور ایک روشن تر مستقبل کیلئے نہایت ضروری ہے، اس کیلئے تمام جمہوری قوتوں کو اکٹھے اور اتفاق رائے سے چلنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز گورنر ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے صوبائی قائدین اور وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں صدر مملکت سے ملاقات کرنے والے وفد میں پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ، چوہدری اسلم گل، مہر ارشاد سیال اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان، پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین بھی موجود تھے۔ صدر زرداری نے اپنا موقف ایک بار پھر دہرایا کہ ہمیں جمہوریت اور عوامی خدمت کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہئے، عوام کو درپیش مسائل کے حل اور ان کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ہر فرد اور مکتبہ فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے گورنر ہاؤس میں مصروف دن گزارا۔ ممبر قومی اسمبلی ثمینہ خالد گھرکی، پیپلز پارٹی کے بانی کارکن عارف خان، چوہدری ذکاء اشرف، ممبر صوبائی اسمبلی بیگم رانا ناصرہ شوکت، ڈاکٹر فرید الزکریا، اور پروفیسر کریم سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی صدر سے ملاقات کی۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان بھی تمام ملاقاتوں میں موجود رہے۔ معاشرتی ترقی، تعلیم، خواتین کے کردار، اور قومی یکجہتی جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفود سے باتیں کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ جمہوریت ہماری قومی شناخت کا بنیادی ستون ہے، ہم پارلیمانی اقدار، قانون کی حکمرانی اور عوامی شمولیت کو مستحکم بنانے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، منتخب نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام سے رابطے میں رہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ ثمینہ خالد گھرکی نے صدر کو اپنے حلقے کے مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔ آصف علی زرداری سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے محافظ محمد شفیق گوگا شہید کی صاحبزادی اور معروف صحافی مائرہ ہاشمی نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں شہداء کے بچوں کو پارٹی میں متحرک کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ اس موقع پر صدر زرداری نے کہا کہ شہداء کی فیملیز پیپلز پارٹی کا سرمایہ ہیں۔ کسی بھی تنظیم کی اصل طاقت اس کے مخلص کارکن ہی ہوتے ہیں۔ ہم ہر مشکل وقت میں اپنے جانثار کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مائرہ ہاشمی پیپلز پارٹی کا قیمتی اثاثہ اور نئی نسل کی نمائندہ ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور نواب شہزاد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے جدید اور پائیدار مواصلاتی نظام ناگزیر ہے۔ ترقیاتی منصوبے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کی رفتار تیز کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا صف علی زرداری پیپلز پارٹی نے کہا

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات