Express News:
2026-06-03@06:15:40 GMT

ایوانِ صدرکی داستانیں

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

ملک بھر میں مخلص سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں پر نظر ڈالی جائے تو بہت کم اصحاب ایسے نظر آتے ہیں جنھوں نے زندگی کا بیشتر حصہ مظلوم طبقات کی جدوجہد کی حمایت میں صرف کیا اور اہم ترین عہدوں پرکام کیا مگر ان کے کردار پرکوئی سیاہ دھبہ نظر نہیں آتا۔ سفید بالوں والے فرحت اللہ بابر شاید 70 دہائیاں گزار چکے اور اب 80 ویں دہائی میں داخل ہوئے ہیں۔

فرحت اللہ بابر بنیادی طور پر انجینئر ہیں، انھوں نے 1965میں سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ فرحت اللہ بابر نے سابقہ صوبہ سرحد کے محکمہ اطلاعات کے ایک افسرکی حیثیت سے عملی زندگی کا آغازکیا۔ جب سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایک اہم مشن پر پشاور آئے تو محکمہ اطلاعات کے ایک افسرکی حیثیت سے انھیں پشاورکے گورنر ہاؤس بھیجا گیا۔ بابر صاحب نے ایک مختصر وقت میں جامع پریس نوٹ تیارکیا جس پر وزیراعظم بھٹو ان کی صلاحیتوں کے مداح ہوگئے۔

 80ء کی دہائی میں مارشل لاء لگنے کے بعد بابر صاحب سعودی عرب چلے گئے۔ جب 1985 میں مارشل لاء ختم ہوا تو فرحت اللہ بابر پاکستان واپس آگئے۔ انھوں نے پشاور سے انگریزی کا ایک معیاری اخبار جاری کیا، مگر جنرل ضیاء الحق حکومت نے اس اخبارکو زیادہ عرصہ چلنے نہیں دیا۔ فرحت اللہ بابر پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کے ترجمان رہے اور پھر جب آصف زرداری ملک کے صدر بنے تو بابر صاحب کو صدرکا ترجمان مقررکیا گیا۔

بابر صاحب اتنے اہم عہدوں پر تعینات رہے مگر ان کی شخصیت ہمیشہ منفرد رہی۔ ان پرکبھی بھی کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔ فرحت اللہ بابرکہتے ہیں کہ جب صدر آصف زرداری نے انھیں اپنا ترجمان مقررکیا تو ان کا خیال تھا کہ وہ زیادہ عرصے اس عہدے پرکام نہیں کرسکیں گے، یہی وجہ تھی کہ انھوں نے ایوانِ صدرکا وزیٹنگ کارڈ بھی نہیں چھپوایا تھا۔ فرحت صاحب کہتے ہیں کہ جب سے وہ بے نظیر بھٹو شہید کے ترجمان رہے تو وہ روزانہ رات کو اپنی ڈائری لکھا کرتے تھے اور وہ یہ سوچتے تھے کہ جب وہ کسی عہدے پر نہیں ہوں گے تو اس ڈائری کی مدد سے ایک کتاب ضرور مرتب کریں گے۔

بابر صاحب کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ بے نظیر صاحبہ نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے مشاہدات کوکتاب کی شکل میں شایع کریں تو بابر صاحب کا جواب تھا کہ جب وہ کسی عہدے پر نہیں ہونگے توکتاب لکھیں گے۔ یوں اب ان کی صدر زرداری کے سابقہ صدارت کے دورکے اہم واقعات اور اس وقت کے پس منظر اور ان واقعات کے اثرات کے حوالے سے یہ تاریخی کتاب شایع ہوئی۔ اگرچہ فرحت اللہ بابر پیپلز پارٹی کے انسانی حقوق سیل کے سربراہ ہیں مگر عملی طور پر وہ پیپلز پارٹی کی پالیسیوں سے بہت دور ہیں۔ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو، سیاسی کارکنوں پر تشدد یا ان کی گرفتاریاں، سب سے پہلے آواز بلند کرنے والوں میں بابر صاحب شامل ہیں، وہ انسانی حقوق کمیشن HRCP کے فعال رکن ہیں۔

سابق سینیٹر اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی تقریباً 500 صفحات پر مشتمل انگریزی کتابZardari Presidency-Now It Must be Toldایوانِ صدر میں ان کے دور میں ہونے والے واقعات، ان واقعات کے پس منظر اور اس کے ملک پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہے۔ فرحت اللہ بابر نے اپنی کتاب کے بارے میں کہا ہے کہ کتاب نہ تو ’’ ایک زرداری سب پر بھاری‘‘ کا پرچار ہے اور نہ ہی کسی ویلن villain کی ’’ عجب کرپشن کی غضب کہانی‘‘ ہے۔ زرداری نہ فرشتہ، نہ ولی وہ ایک انسان ہے جو جہاں خوبیوں کا مالک ہے وہاں وہ بشری خامیوں سے مبرا بھی نہیں،کتاب کے بارے انھوں نے بتایا کہ اس میں زرداری کی شخصیت کے علاوہ باقی 9 سیکشنز میں مختلف بڑے بڑے اور دور رس اہمیت کے حامل واقعات کو پس منظر اور پیش منظرکے ساتھ ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔

ان میں درج ذیل بھی شامل ہیں۔ ایبٹ آباد چھاؤنی میں اسامہ بن لادن کی برآمدگی، میموگیٹ اسکینڈل، زرداری اور افتخار محمد چوہدری کے درمیان جنگ، ثالثی کی کوششیں اور بالآخر زرداری کا طبل جنگ کہ enough is enough  اور جسٹس چوہدری کا گھوڑے سے اترنا، ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ، اس کی فوری رہائی کے لیے امریکی سفیرکا غیر معمولی اضطراب اور اس پر زرداری کی حیرت، تاریخ کا انوکھا واقعہ، پارلیمان کے اندر وزیر اعظم یوسف گیلانی کا ’’ ریاست کے اندر ریاست نا منظور‘‘ کا نعرہ مستانہ، صدر جنرل پرویز مشرف کو ایوان صدر سے نکالنے کی اندرونی کہانی، انتہائی راز داری سے اس کے خلاف تیارکردہ چارج شیٹ کے چیدہ نکات پہلی بار منظر عام پر، 15 مارچ 2009 کی فیصلہ کن، پراسرار اور ڈرامائی رات کا لمحہ بہ لمحہ تفصیلی ذکر، اس رات ایوان صدر میں چیف جسٹس کی بحالی کے حوالے سے فجرکی نماز تک جاری اجلاس کی لمحہ با لمحہ روداد،کون کہاں کھڑا،کیا چاہتا تھا؟ ، فوجی ٹیک اوورکے خوف سے نصف سے زائد معتمدین، جن کو بلایا گیا تھا، کا اجلاس میں شرکت سے گریز اور زرداری کا ملال۔ فرحت اللہ بابر نے کتاب میں کچھ حیرت انگیز اور پراسرار واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔

صدر زرداری سے منسوب بعض ناقابل یقین بیانات جس کا صدارتی ترجمان ہونے کے باوجود نہ ان کو علم تھا اور نہ وضاحت کرسکتے تھے، کتاب میں ایک پورا باب ''Enigma inside a Mystery'' کے عنوان سے تحریرکیا ہے۔ خارجہ پالیسی کے باب میں زرداری کے چند دور رس اقدامات کا تفصیلی ذکرکیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کے ایٹمی جنگ میں پہل نہ کرنے پر بھارت کو بات چیت کی دعوت اور اس کا خوفناک رد عمل سامنے آیا۔ صدر زرداری نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت کی خفیہ کوششیں کیں۔ اس کتاب میں مزید کہا گیا ہے کہ میانمارکی جمہوری لیڈر آن سانگ سو چی سے طویل خصوصی ملاقات اور بینظیر جمہوری ایوارڈ سے نوازنا، زرداری اور سوچی کے درمیان طویل گفتگو، دل سے نکلی باتیں جسے مصنف نے ان ہی کے الفاظ میں قلمبندکیا اور جو دونوں کی ذاتی زندگی کے ایسے نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے جس کا شاید پہلے کسی کو علم نہ ہو۔ زرداری کے بارے میں کئی لوگوں نے کہا کہ وہ ایک حادثاتی صدر تھے جو اپنی بیوی بینظیر بھٹوکی شہادت کے حادثے کے بعد صدر بنے۔ فرحت اللہ بابر نے اعتراف کیا ہے کہ اگر زرداری حادثاتی صدر تھا تو وہ خود بھی حادثاتی صدارتی ترجمان تھا۔ جب تک شہید بینظیر بھٹو زندہ تھیں اس کا شمار زرداری کے قریب لوگوں میں ہرگز نہ تھا، بلکہ کسی حد تک ان کے درمیان ایک فاصلہ، بیگانیکی اور لاتعلقی تھی۔

مصنف کہتا ہے کہ اس کا اظہار خود صدر زرداری نے ایک سے زائد بار کیا جب اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ فرحت اللہ تم بھی تو مجھے لیڈر نہیں مانتے تھے۔‘‘ جب پچھلے سال دوسری بار صدر منتخب ہونے پر میں نے زرداری ہاؤس میں ان کو مبارکباد دی تو میری طرف دیکھے بغیرگنگنا کر کہا، ’’ ہاں،کچھ لوگ تو اب بھی ہمیں لیڈر نہیں سمجھتے‘‘ مبارک سلامت کے شور میں کوئی نہ سمجھا کہ صدر زرداری نے کیا کہا،کیوں کہا۔ کتاب میں کہا گیا ہے کہ زرداری نے غلطیاں کی ہونگی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گیارہ سال قید میں رہنے کے باوجود کسی عدالت میں ان کے مبینہ جرائم کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔

ان کو ناکردہ گناہوں کی ناحق بھاری سزا دی گئی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹوکو ناکردہ گناہ کی سزا میں پھانسی دی گئی۔ عدالت عظمی نے تو 44 سال بعد اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا لیکن جن لوگوں نے عدالت پر دباؤ ڈال کر یہ کروایا وہ خاموش ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بھی سیاسی قائدین اورکارکنوں جن کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی گئی کی ایک طویل قطار نظر آتی ہے، اس قطار میں سب سے آگے کھڑا زرداری مسکراتا ہوا نظر آتا ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس ملک کے بڑے بڑے المیوں میں ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ سیاستدانوں کے علاوہ جن لوگوں نے ملک سے کھلواڑکھیلا، ان کا احتساب نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ نویسی عجیب عمل ہے، اگر تاریخ نویس اسی دور میں رہا ہو جس کی وہ تاریخ لکھ رہا ہے تو وہ حالات و واقعات کو قریب سے تو دیکھتا ہے لیکن واقعات کا اس کی اپنی ذات پر اثر اس کے داستان پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

دوسری جانب اگر تاریخ نویسی بہت پرانے ماضی کی داستان لکھ رہا ہو اور دوسروں کی لکھی اورکہی ہوئی باتوں پر انحصارکرتا ہے تو سیاق سباق اور اس دورکے کرداروں کے احساسات اور محسوسات سے بے خبر ہونے کی وجہ سے اس کا بیانیہ بھی نامکمل رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی کوشش رہی ہے کہ غیر جانبدار تاریخ لکھے، یہی وجہ ہے کہ اس نے یہ کتاب زرداری کی پہلی صدارت کے خاتمے کے 12 سال بعد لکھی تاکہ ذاتی ڈائری میں درج واقعات کا جن الفاظ میں اس وقت ذکر کیا تھا، ان کی مناسبت پر غورکرسکوں، لیکن اس کاوش میں کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ صرف قاری نے کرنا ہے۔

اگرچہ بابر صاحب نے یہ کتاب لکھ کر ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کی قیمت 5,995/- روپے ہے۔ اس بناء پر صرف امراء کے چند افراد ہی اس کتاب سے مستفید ہوسکیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فرحت اللہ بابر نے زرداری کے کے درمیان نے کہا کہ انھوں نے کتاب میں کے بارے گیا ہے اور اس

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا