کے الیکٹرک کی ایف سی ایریا اور زینت اسکوائر لیاقت آباد میں میں رات کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
کراچی:
کے الیکٹرک لیاقت آباد انتظامیہ نے ایف سی ایریا اور زینت اسکوائر میں رات کے وقت لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے کے الیکٹرک لیاقت آباد آئی بی سی کے ڈپٹی جنرل منیجر خواجہ احسن اور دیگر افسران سے ملاقات کی۔
اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنماء اور چیئرمین لوکل زکوۃٰ کمیٹی و ممبر پبلک ہیلتھ ویلفیئر کمیٹی سعد یوسف نے بتایا کہ وفد نے کے الیکٹرک حکام کو ایف سی ایریا اور زینت اسکوائر لیاقت آباد میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ اور عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔
پیپلز پارٹی کے وفد نے کے ای حکام سے مطالبہ کیا کہ ایف سی ایریا میں رات کو ڈھائی بجے سے صبح ساڑھے پانچ بجے تک اور زینت اسکوائر میں رات 4 بجے سے 6 بجے تک جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو ختم کیا جائے۔
سعد یوسف کے مطابق کے الیکٹرک حکام کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ رات میں ہونے والے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو جلد سے جلد ختم کردیا جائے گا۔
اس موقع پر علاقائی معززین راؤ قدیر، احمد سعید صدیقی، کیانی اور ٹی این ٹی یونین کے صدر خاور بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور زینت اسکوائر ایف سی ایریا کے الیکٹرک میں رات
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔