اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ 11 جون 2025ء تک ہڑتال کو توسیع دی جائے گی۔ البتہ تمام ایمرجنسی نوعیت کے مقدمات سننے، ضمانت، سپرداری وغیرہ میں وکلاء کو پیش ہونے کی اجازت ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، بار کونسل گلگت، غذر بار ایسوسی ایشن کا ایک مشترکہ اجلاس زیر صدارت صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن تنویر اختر ایڈووکیٹ بار آفس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کے شرکاء نے وکلاء برادری گلگت بلتستان کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہڑتال کے بعد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر کی جانب سے مختلف محکموں کے سیکریٹریز کو باقاعدہ احکامات جاری ہونے کے باوجود ابھی تک متعدد مسائل پر صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہ اٹھانے پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور وکلاء کے تمام دیرینہ مطالبات کو فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات یہ بھی زور دیا کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان میں حجز کی تعیناتی گلگت بلتستان کے اہل وکلاء کو ترجیح دیگر جلد تعیناتی عمل میں لائی جائے اور کسی ریٹائرز ججز میں سے تعیناتی عمل میں نہ لائی جائے۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ 11 جون 2025ء تک ہڑتال کو توسیع دی جائے گی۔ البتہ تمام ایمرجنسی نوعیت کے مقدمات سننے، ضمانت، سپرداری وغیرہ میں وکلاء کو پیش ہونے کی اجازت دی جاتی ہے اور معزز وکلاء سے گزارش ہے کہ ریگولر مقدمات کی حد تک پورے گلگت بلتستان کی عدالتوں میں بطور احتجاج پیش نہ ہو کر ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ 11 جون 2025ء تک وکلاء کے مطالبات حل نہ ہونے کی صورت اگلا لائحہ عمل سخت سے سخت ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری