ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دیں گے۔

کمانڈاینڈاسٹاف کالج کوئٹہ میں افسران سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کمانڈاینڈ اسٹاف کالج نے ہمیشہ شاندار خدمات سرانجام دیں،  دوست ملکوں سے آئے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہیں، آپ کی یہاں موجودگی ہمارے  بہترین تعلقات کی عکاس ہے۔

سوراب میں دہشت گردوں کا بینک اوررہائش گاہوں پر حملے؛ اے  ڈی سی ریونیو شہید 

 وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسلح افواج ہماری خودمختاری اور سالیمت کی محافظ ہیں،   بھارت نے پہلگام واقعےکی آڑ میں جارحیت کی کوشش کی،  پاکستان نے بھارتی جارحیت کا صرف جواب نہیں دیا، بازی بھی پلٹ دی، آرمی چیف نےثابت کیا کہ وہ فیلڈ مارشل کے رینک کے حقدار  ہیں، ائیر چیف  مارشل  ظہیر بابر نے بھارتی طیارے گرا کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو ثابت کیا۔ 
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کو میدان جنگ اور سفارتی محاذوں پربھی شکست کا سامنا کرنا پڑا،  بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار  استعمال کرنے نہیں دیں گے، بھارت نے جارحیت میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، آئندہ بھی کوئی مہم جوئی ہوئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

دوسرا ٹی 20 ؛ پاکستان کا جیت کے لیے 202 رنز کا ہدف

ان کا کہنا تھا کہ آج عام محاذ کے بجائے مختلف جہتوں میں صلاحیتوں کا امتحان ہے، مسلح  افواج  نے تمام امتحانوں کے لیے بہترین خدمات انجام دیں، ہماری مسلح افواج نے بہترین خدمات سرانجام دیں، ائیرفورس نے تاریخی کارنامہ سر انجام دیا،7 ہائی ویلیو اہداف کو نشانہ بنایا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث تاریخی کامیابی ملی، حکومت اور عوام اپنی مسلح افواج کے شابہ بشانہ ہیں، اللہ نے ہمیں شاندار فتح سے نوازا۔

کل ضلع بہاولنگر میں عام تعطیل کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب معاہدے سے معیشت کو استحکام ملا، معاشی استحکام کے لیے بنیادی سطح پر اصلاحات کی ضرورت ہے، معاشی بہتری سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئی ہے، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر سنگل ڈیجٹ تک آگئی ہے۔

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ نہیں دیں گے بھارت کو

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ