واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان اور بھارت کو جنگ سے روکا، پاک بھارت کشیدگی جوہری تباہی کا باعث بن سکتی تھی۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اوول ہاوس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی پر پاک بھارت رہنماو¿ں کا شکریہ اداکرتا ہوں۔ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان اوربھارت کوجنگ سے روکا، دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی جوہری تباہی کا باعث بن سکتی تھی ۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم کسی سے بھی بہتر لڑسکتے ہیں ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جلد ہو سکتا ہے جبکہ امریکہ ایران جوہری پروگرام معاہدے کے قریب ہیں، چینی صدر سے تجارت اور ٹیرف پر بات کروں گا، امید ہے تجارت اور ٹیرف پر امریکہ چین اختلافات دور ہو جائیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ غیر ملکی طالب علموں کو فی الحال امریکہ سے نہیں نکال رہے، ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ لڑائی کے باوجود چاہتا ہوں غیر ملکی طلبا یہاں تعلیم حاصل کریں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل بھی پاک بھارت جنگ بندی کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرائی۔
امریکی صدر کے مطابق انہوں نے پاکستان اور بھارت سے کہا کہ تم لوگ یہ کیا کر رہے ہو؟ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ پاکستان کے لوگ بہترین اور اس کے رہنما عظیم ہیں، بھارت میں مودی ان کا دوست ہے۔دوسری جانب بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکی کوششوں کا سرے سے انکار کیا تھا۔

عمران خان  نے  عالیہ حمزہ کی سربراہی میں چار رکنی سیاسی کمیٹی بنادی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نے پاکستان اور بھارت امریکی صدر پاک بھارت کے درمیان نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل