پاکستان میں کھیلوں کا لامحدود ٹیلنٹ موجود ہیں، گورنرخیبرپختونخوا میں کھیلوں کی ترقی کیلئے مثبت تجاویز کا خیر مقدم کرینگے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کا لامحدود ٹیلنٹ موجود ہیں، ملک میں کھیلوں کی ترقی کیلئے میڈیا کا اہم کردار ہے۔ خیبرپختونخوا میں کھیلوں کی ترقی کیلئے مثبت تجاویز کا خیر مقدم کرینگے۔ گورنر کے پی نے ان خیالات کا اظہار راولپنڈی اسلام آبادسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (رسجا)کےنومنتخب صدر ابوبکربن طلعت کی قیادت میں رسجا کے نومنتخب عہدداران سے گورنر ہاوس میں ہونیوالی ملاقات کے دوران کیا۔ فیصل کریم کنڈی نے رسجا کے نومنتخب عہدداران کو مبارکباد دیتے ہوے کہا کہ الیکٹورل سسٹم سے آنیوالے رسجا کے عہدیدران اپنا اہم کردار اداکریں گے۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہے جن کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کھیلوں کا لامحدود ٹیلنٹ موجود ہیں اس ٹیلنٹ کو ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں میڈیا کلیدی کردار ادا کرتاہے،امید ہے رسجا خیبر پختونخوا کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بھی پرموٹ کرے گا۔ گورنر کے پی نے کہا کہ کھیلوں کے صحافی پوری دنیا میں ملک کا مثبت امیج اجاگرکرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں کھیلوں کی ترقی کیلئے مثبت تجاویز کا خیر مقدم کرینگے، فیصل کریم کنڈی نے رسجا وفد کو ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کروائی۔ابوبکر بن طلعت کی قیادت میں رسجا وفد میں عبدالمحی شاہ، شکیل اعوان، ناصر نقوی، کرن خان، ارفع فیروز ذکی، شاکر عباسی اور افضل جاوید شامل تھے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔