پاکستان کے ترقی کرتے آئی ٹی شعبے میں خواتین کا کردار کم کیوں؟ رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
یورپی یونین اور برٹش کونسل نے پاکستان میں خواتین کے ڈیجیٹل مہارتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم تجزیاتی رپورٹ جاری کردی ہے۔
یورپی یونین کے پاکستان کے لیے نمائندہ دفتر اور برٹش کونسل نے مشترکہ طور پر ایک اہم رپورٹ ‘مہارتوں کا خلا اور مارکیٹ کی ضروریات کا تجزیہ’ جاری کی ہے جسے یورپی یونین کے فنڈ سے چلنے والے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سیکٹر سپورٹ پروگرام (مرحلہ IV) کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی صحافی خواتین: ہمت، جدوجہد اور تبدیلی کی کہانی
یہ تحقیقاتی رپورٹ اسپوس پاکستان نے ترتیب دی ہے۔ یہ مطالعہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اعلیٰ ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل ہنر کے اہم خلاؤں کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کے لیے 2 بین الاقوامی تصدیق شدہ سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جن کا مقصد خواتین کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہنر سے لیس کرنا ہے۔
رپورٹ کا اجرا وفاقی تعلیم و تربیت کی وزیر مملکت محترمہ وجیہہ کامر کے زیرِ سرپرستی ہوا۔ اس میں مارکیٹ کی طلب، صنعت کے مطابق تربیت کے لیے ایک حکمت عملی کا خاکہ اور شامل ہیں تاکہ شامل، صنعت کے مطابق تربیتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔
رپورٹ کے اہم نتائج:پاکستان کا تیزی سے بڑھتا ہوا انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) شعبہ برآمدات 2024 میں 3.
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: خواتین کے لیے منفرد سرکاری ٹریننگ پروگرام
مطالعہ میں 42 کورسز کی فہرست تیار کی گئی ہے جن میں طلب زیادہ ہے مگر ان کے لیے درکار مہارتوں کا پاکستان میں فقدان ہے۔ ان شعبوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالٹیکس، کلاؤڈ سکیورٹی اور دیگر 20 ہائی ٹیک شعبے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اس وقت صرف 10% سے بھی کم ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ ادارے جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت فراہم کرنے والے اعلیٰ سطح کے تربیتی پروگرامز پیش کرتے ہیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت محترمہ وجیہہ کامر نے کہا یہ رپورٹ ہمیں اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ہمیں ٹیکنالوجی میں خواتین کا فرق کم کرنے اور پاکستان کی خواتین اور لڑکیوں کو ڈیجیٹل معیشت میں قیادت کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب میں با اختیار خواتین کی کامیابیوں کی متاثر کن کہانیاں
یورپی یونین کے تعاون کے نمائندہ جیرون ولیمز کا کہنا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی جانب سفر کی حمایت کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے۔ خواتین کی مہارتوں میں سرمایہ کاری دراصل ملک کی خوشحالی میں سرمایہ کاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ٹی شعبہ اسکلز باہنر خواتین پاکستان خواتین کا کردار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی ٹی شعبہ اسکلز باہنر خواتین پاکستان خواتین کا کردار یورپی یونین میں خواتین خواتین کا کے لیے
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔