UrduPoint:
2026-06-03@07:24:35 GMT
راولپنڈی‘ ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر سفاک باپ نے 16 سالہ لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جولائی2025ء)راولپنڈی کے تھانہ روات کے علاقہ میں 16 سالہ لڑکی کو ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر غیرت کے نام پر باپ نے قتل کردیا مقدمہ پولیس مدعیت میں درج کرلیا گیا۔
(جاری ہے)
پولیس مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا کہ اطلاع ملی ڈھوک چوہدریاں داخلی تخت پڑی روات میں اخلاق احمد نے اپنی بیٹی مسماتہ مہک شہزادی کو ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا لیکن بیٹی نے اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کیا جس پر اخلاق احمد نے طیش میں آکر غیرت کے نام پر اپنی بیٹی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
مزکورہ نے فساد فی الارض کا ارتکاب کیا اور موقع سے فرار ہوگیا، پولیس حکام کا کہنا تھا کہ اہل خانہ نے واقعہ کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔پولیس نے تحقیقات کیں تو واقعہ قتل کا نکلا، نعش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے، ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں اور تمام زاویوں پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اکاؤنٹ ڈیلیٹ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔