ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کیخلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھاکہ نادرا ایگزٹ پوائنٹس پر لائیو ڈیٹا ویری فکیشن کی سہولت فراہم کرے گا اور تمام اداروں کو مل کر ون ڈاکیومنٹ سسٹم کو مکمل نافذ کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت کاؤنٹرٹیرر ازم کمیٹی اور ہارڈن دی اسٹیٹ کمیٹی کا تیسرا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کےخلاف آپریشن تیز کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نادرا ایگزٹ پوائنٹس پر لائیو ڈیٹا ویری فکیشن کی سہولت فراہم کرے گا اور تمام اداروں کو مل کر ون ڈاکیومنٹ سسٹم کو مکمل نافذ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک سےغیرقانونی اسپیکٹرم کے خاتمے کیلئے وفاقی وصوبائی اداروں کومل کرکام کرناہوگا۔ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ بھکاری مافیا ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے، ان سے سختی سے نمٹا جائے، گداگری کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے وزارت توانائی اور صوبائی حکومتوں کوتعاون فراہم کررہے ہیں۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ روزانہ کی بنیاد پر 250 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں، وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کےتعاون سے 142 ارب روپےکی ریکوری ممکن ہوئی۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں تجاوزات کےخلاف آپریشنز اور پورٹ اتھارٹی کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں گوادر سیف سٹی منصوبے اور پروٹیکشن وال پر پیشرفت پر بھی غور کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اجلاس میں محسن نقوی
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔