حکومتی مدد کے بغیر 2 یتیم خانے چلانے والی خضدار کی آمنہ شفیع سے ملیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی آمنہ شفیع 2012 سے بے سہارا بچوں کے لیے 2 شیلٹر ہومز چلا رہی ہیں جہاں قریباً 120 یتیم یا والدین کی عدم موجودگی میں منشیات کے عادی بچے زیرِ کفالت ہیں۔
یہ ادارے مکمل طور پر ذاتی وسائل پر چلائے جا رہے ہیں اور بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ آمنہ شفیع کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ان بچوں کو معاشرے کا باوقار اور کامیاب فرد بنانا ہے۔ مزید جانیے اس رپورٹ میں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آمنہ شفیع بلوچستان تعلیم خضدار شیلٹر ہومز وی نیوز یتیم بچے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا منہ شفیع بلوچستان تعلیم شیلٹر ہومز وی نیوز یتیم بچے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔