سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور منفی خبروں کا تدارک کریں، کور کمانڈرز
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
پاک فوج کے اعلیٰ عسکری حکام نے مختلف شہروں میں تعلیمی اداروں کے اساتذہ و طلبا کے ساتھ نشستوں کا انعقاد کیا۔ اساتذہ اور طلبا کی نشستوں میں کور کمانڈرز نے زور دیا کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا سفر جاری نہیں رہ سکتا۔
کور کمانڈرز نے طلبہ اور طالبات کو ملک میں امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور کے کردار کے حوالے سے آگاہی دی۔
کور کمانڈرز نے طلبا و طالبات پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر زور دیں۔
کور کمانڈرز نے طلبا کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
عسکری حکام کا کہنا تھا کہ طلبا پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، وہ عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کریں۔
کور کمانڈر نے طلبا پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور منفی خبروں کا تدارک کریں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کور کمانڈرز نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔