چین کسی بھی وقت تائیوان پر حملہ کرسکتا، شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
سنگاپور میں منعقدہ شنگریلا ڈائیلاگ سیکیورٹی کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ چین کی جانب سے تائیوان پر حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف انڈو پیسیفک بلکہ عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کا باعث بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ
ہیگستھ نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے پیپلز لبریشن آرمی کو 2027 تک تائیوان پر قبضے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے، اور موجودہ فوجی مشقیں اور تیاریوں سے واضح ہوتا ہے کہ چین طاقت کے استعمال کے لیے سنجیدہ ہے۔
انہوں نے ایشیائی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کریں اور دفاعی بجٹ کو یورپی نیٹو ممالک کی طرح 5 فیصد جی ڈی پی تک بڑھائیں۔
ہیگستھ نے واضح کیا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور انڈو پیسیفک خطے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین نے امریکا کی 28 کمپینوں کی برآمد پر پابندی عائد کردی
ہیگستھ نے چین کی جانب سے پاناما کینال پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں اور بیجنگ پر اقتصادی انحصار کے خطرات پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور روس کی حمایت عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، جس کے لیے متحدہ عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔
کانفرنس میں آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے بھی امریکا کی انڈو پیسیفک میں وابستگی کو سراہا اور خطے میں استحکام کے لیے دیگر ممالک سے بھی تعاون کی اپیل کی۔
انہوں نے چین کی فوجی توسیع اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں:چین امریکا سیزفائر، دونوں ممالک محصولات 3 ماہ کے لیے کم کرنے پر راضی
ہیگستھ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ چین کا رویہ ایک ویک اپ کال ہے، اور ہمیں اس کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہیگستھ نے وزیر دفاع کہ چین چین کی کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔