پنجاب کو ماڈل صوبہ بنانا اور عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ارکان اسمبلی نے ملاقات کی ہے جس میں فلاحی منصوبوں، عوامی مسائل کے حل اور حلقے کے ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے تعطیلات کے بعد وہاڑی گرلز کالج میں کلاسیں شروع کرانے کا حکم دیا اور کوٹ ادو میں واٹر اسکیم پراجیکٹ لانے کے احکامات جاری کیے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پانی زندگی کی علامت اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
ملاقات کرنے والوں میں محمد احمد خان لغاری اور نعیم اختر خان شامل تھے۔
اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کو ماڈل صوبہ بنانا اور عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے، نوجوانوں کی تعلیم اور مالی خود مختاری ترجیحات میں سر فہرست ہے، ترقی کے ثمرات صوبے کے ہر حصے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
ارکان اسمبلی نے ملتان وہاڑی روڈ کی تعمیر و توسیع پراجیکٹ شروع کرنے پر وزیراعلیٰ سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے شفاف گورننس اور انقلابی اقدامات کے ذریعے عوام کے دل جیت لیے۔
ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ کسان کارڈ، مینارٹی کارڈ، راشن کارڈ، ہمت کارڈ، ایجوکیشن کارڈ بہترین اقدامات ہیں، ہونہار اسکالرشپ، لیپ ٹاپ اسکیم اور ای بائیکس پراجیکٹس نے طلبہ کے دل جیت لیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔