‘پورا سال جانور پال کر جب قربانی کرتا ہوں تو گھر آب دیدہ ہوتا ہے’
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے ہر اہل ایمان کی کوشش ہوتی ہے کہ بہتر سے بہتر جانور اللہ کی راہ میں قربان کرے۔ اس مناسبت سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح میں بھی مویشی منڈیاں سج گئی ہیں جہاں مختلف اقسام کے جانور موجود ہیں لیکن کوئٹہ کے رہائشی آصف باکری سنت ابراہیم کو منفرد طریقے سے ادا کرتے ہیں۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے آصف باکری نے بتایا کہ ہر سال عید قرباں کے موقع پر سال بھر پالے ہوئے اپنے جانوروں کو راہ خدا میں قربان کر دیتا ہوں اس بار بھی میں نے کجلے نسل کے 2 دمبوں کی پورے سال خدمت کی اور اب عید کے موقع پر انہیں رائے حق میں قربان کر دوں گا۔
آصف باکری کا بتانا ہے کہ ان جانوروں کو پورا سال گھر کی خوراک جس میں دانہ مختلف سبزیوں اور پھلوں کے چھلکوں سمیت اعلی خوراک دی جاتی ہے اس کے علاوہ ان جانوروں کو 10 سے 12 گھنٹے تک آرام کرایا جاتا ہے جس کے بعد یہ بہترین طریقے سے تیار ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عید قربان پر جب ہم ان جانوروں کو قربان کرتے ہیں تو پورا گھر آب دیدہ ہوتا ہے کیونکہ ہم نے ان جانوروں کو پورا سال پالا ہوتا ہے اور ان جانوروں سے ایک انسیت سی ہو جاتی ہے۔
آصف باکری نے بتایا کہ جانور کو عید سے عید تک پہلے میرے والد صاحب پالا کرتے تھے اور گزشتہ 35 سال سے میں بھی یہی کر رہا ہوں، دراصل سنت ہے ابراہیمی کا اصل طریقہ یہی ہے کہ پورا سال جانور کو پالا جائے اور پھر اسے خدا کی راہ میں قربان کر دیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بکرا دنبہ عید الاضحی عید قربان قربانی کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عید الاضحی کوئٹہ ان جانوروں کو آصف باکری پورا سال
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔