لاہور چڑیا گھر اور سفاری زو کیلیے جانوروں کی درآمد تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
لاہور:
لاہور چڑیا گھر اور سفاری زو کے لیے جنوبی افریقا سے زرافے، گینڈا اور دریائی گھوڑے کی درآمد کو اینیمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کلیئرنس نہ ملنے کے باعث پنجاب وائلڈ لائف کو ایک بار پھر مشکلات کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ہاتھیوں کی درآمد کا منصوبہ بھی پہلے ہی تعطل کا شکار ہے اور اب دیگر بڑے جانوروں کی آمد بھی غیر یقینی ہوچکی ہے۔ دوسری طرف پنجاب وائلڈ لائف حکام پرامید ہیں کہ یہ جانور جلد پاکستان لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
لاہور چڑیا گھر اور سفاری زو کےلیے اندرون اور بیرون ملک سے کئی جانور اور پرندے خریدے جاچکے ہیں تاہم ابھی تک کئی بڑے جانوروں کی درآمد تاخیر کا شکار ہے۔ جن میں 12 زرافے، جن میں سے 9 لاہور سفاری زو اور تین لاہور چڑیا گھر کےلیے، تین گینڈے ایک لاہور چڑیا گھر اور ایک جوڑا لاہور سفاری زو کےلیے جبکہ ایک نر دریائی گھوڑا لاہور چڑیاگھر کے لیے اہم ہیں۔
ری ویپنگ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر مدثر حسن نے بتایا کہ وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے ہاتھیوں کے علاوہ دیگر جانوروں جن میں گینڈے، دریائی گھوڑے، زرافے، نیالا ہرن اور زیبرے درآمد کرنے کےلیے این او سی مل چکا ہے لیکن اینیمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ان جانوروں کو جنوبی افریقا سے درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
اینیمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کے حکام نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ’’جنوبی افریقا سے جو جانور درآمد کیے جا رہے ہیں، اُن کے ہیلتھ سرٹیفکیٹس کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ آیا وہ پاکستان کی امپورٹ ریگولیشنز پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ حکام کے مطابق اگر موجودہ سرٹیفکیٹس پاکستان کی ضروریات کے مطابق نہ ہوئے، تو درآمد کنندگان سے اضافی تصدیق طلب کی جائے گی۔‘‘ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی بیماری پاکستان میں داخل نہ ہو۔ یہ مکمل طور پر ایک پروسیجرل عمل ہے۔
حکام کے مطابق جنوبی افریقا سمیت بعض دیگر افریقی ممالک میں فٹ اینڈ ماؤتھ ڈزیز (ایف ایم ڈی) کا ایسا وائرس پایا جاتا ہے جو ابھی تک پاکستان میں نہیں ہے، حکام کو خدشہ ہے کہ اگر وہ وائرس پاکستان پہنچ گیا تو ہمارے یہاں لائیو اسٹاک کو متاثر کرسکتا ہے، اس لیے کوئی رسک نہیں لیا جاسکتا۔
ذرائع کے مطابق، فی الوقت دریائی گھوڑا، گینڈا اور زرافہ سمیت دیگر جانوروں کی درآمد پر عارضی پابندی عائد ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف فٹ اینڈ ماؤتھ بیماری کے پیشِ نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر لیا گیا ہے۔
کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کے حکام نے پنجاب وائلڈ لائف کو مشورہ دیا ہے کہ یہ جانور کسی دوسرے ملک سے درآمد کرلیں۔جہاں ایف ایم ڈی کی وبا نہیں ہے تاہم مدثر حسن کہتے ہیں کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کی تجویز پرعمل درآمد اتنا آسان نہیں کیونکہ دوسرے ممالک میں اول تو یہ جانور موجود نہیں ہیں، اور جن ممالک میں ہیں وہاں یہ سرپلس نہیں ہیں۔ دوسرا مسئلہ ان جانوروں کی ٹرانسپوٹیشن کا ہے۔ ساؤتھ افریقا کے علاوہ دیگر ممالک میں ان جانوروں کےلیے کارگو جہاز میسر نہیں۔
انہوں نے کہا کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جانور پاکستان لائے جانے سے پہلے ساؤتھ افریقا میں کورنٹائن کے مرحلے سے گزریں گے اور پھر پاکستان درآمد کے بعد ان کو 15 دن سے ایک ماہ تک کےلیے کورنٹائن میں رکھ کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایف ایم ڈی کے جس وائرس کی بات کی جارہی ہے وہ ابھی تک گینڈے اور دریائی گھوڑے میں رپورٹ ہی نہیں ہوا ہے۔ پھر سب سے اہم یہ کہ ان جانوروں کو ہم نے چڑیاگھر اور سفاری پارک میں رکھنا ہے جہاں لائیو اسٹاک کے ساتھ ان جانوروں کے ملاپ کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔
پنجاب وائلڈ لائف اور اینیمل کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کے موقف اپنی جگہ ہیں لیکن اس بارے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی نمائندہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کہتی ہیں چڑیا گھر اور سفاری پارک کےلیے جانور کسی چڑیا گھر سے امپورٹ کرنا چاہیں۔ جنوبی افریقہ کے جن ممالک سے جانور درآمد کیے جاتے ہیں وہاں سے زیادہ تر وائلڈ جانور فراہم کیے جاتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ پہچان مشکل ہوتی ہے کہ درآمد کیے گئے جانور وائلڈ ہیں یا کیپٹو ہیں۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کہتی ہیں وہ اس حق میں ہیں کہ ہمیں قوانین کا احترام اور ان پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ کورنٹائن ڈپارٹمنٹ کی تجویز کے مطابق اگر کسی دوسرے ملک سے جانور لائے جاسکتے ہیں وہاں کے کسی چڑیا گھر، سفاری یا پھر وائلڈ بریڈنگ فارم سے جانور منگوانا زیادہ بہتر ہے کیونکہ ایسے جانوروں کو یہاں اسیری میں رکھنا آسان ہوتا ہے۔ جبکہ وائلڈ اینیملز کو جب اسیری میں رکھا جاتا ہے تو وہ اسٹریس میں چلے جاتے ہیں اور بیمار ہوجاتے ہیں۔
دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر موجودہ مالی سال کے اندر یہ جانور درآمد نہیں کیے جاتے تو ان کےلیے مختص فنڈز قانون کے مطابق واپس ہوجائیں گے لیکن ڈائریکٹر پروجیکٹ مدثر حسن پُرامید ہیں کہ وہ یہ جانور پاکستان لانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور فنڈز واپس نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا جانوروں کی درآمد کے منصوبے میں توسیع پر مشاورت ہورہی ہے۔ وہ اس بارے میں کچھ واضح طور پر تو نہیں کہہ سکتے لیکن بہت جلد عوام کو خوشخبری دیں گے۔
واضح رہے کہ لاہور چڑیا گھر اور سفاری پارک کی ری ویپنگ کا منصوبہ 2023 میں نگران حکومت نے شروع کیا تھا، اس منصوبے کےلیے تقریباً 5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پنجاب وائلڈ لائف جنوبی افریقا جانوروں کی ممالک میں سفاری زو یہ جانور جاتے ہیں کے مطابق کی درآمد ہیں کہ ہیں وہ
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر