شوبز کی چمکتی دنیا میں جہاں ہر روز نئی کہانیاں جنم لیتی ہیں، وہیں دو مشہور اداکاراؤں، یشما گل اور ہانیہ عامر کی دوستی نے حالیہ دنوں ایک نیا رُخ اختیار کرلیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری منگنی کی انگوٹھی پہنانے کی ایک ویڈیو اور پھر اس کے بعد سامنے آنے والا شادی کا پروپوزل مداحوں کو الجھن میں ڈال گیا ہے کہ کیا یہ صرف گہری دوستی ہے یا کچھ اور بھی؟

یہ دو اداکارائیں نہ صرف اسکرین پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں، بلکہ نجی زندگی میں بھی ایک دوسرے کے لیے بے پناہ محبت اور وابستگی رکھتی ہیں۔ ہانیہ عامر اور یشما گل کی دوستی کی مثالیں اکثر میڈیا میں دی جاتی ہیں، چاہے وہ کسی ایونٹ میں ساتھ نظر آئیں یا یشما کی بلی ’جوجو‘ کے انتقال پر ہانیہ کا دل جیت لینے والا قدم، جب اس نے اپنی پالتو بلی ’ایشوریا‘ دوست کو دے دی۔

تاہم حال ہی میں دونوں کی ایک ویڈیو نے سب کو حیران کردیا، جس میں وہ ایک جیولری شو روم میں موجود ہیں۔ ویڈیو میں پہلے ہانیہ عامر اپنی دوست کو انگوٹھی پہناتی ہیں، اور پھر یشما گل محبت بھری شوخی سے ہانیہ کو انگوٹھی پہنا کر یہ کہتی ہیں: ’’ہانیہ کی شادی مجھ سے ہورہی ہے، یہ بہت امپورٹنٹ ہے!‘‘ اس کے بعد وہ ’مائن‘ کی آواز لگا کر گویا رشتے پر مہر لگا دیتی ہیں۔

مداحوں نے اس منظر کو کسی فلمی سین کی طرح سراہا، مگر سوشل میڈیا پر ایک بڑی تعداد نے اس ’’دوستی سے کچھ آگے‘‘ قدم پر تنقید بھی کی۔ کچھ صارفین نے ان پر نئی نسل کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا، جبکہ خاص طور پر خواتین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

لیکن شاید اصل دھماکا تو اس کے بعد ہوا، جب سوشل میڈیا پر ایک اسکرین شاٹ گردش کرنے لگا جس میں یشما گل نے ہانیہ عامر کو براہِ راست شادی کی پیشکش کر ڈالی۔ اسکرین شاٹ میں یشما کہتی ہیں: ’’مجھ سے شادی کرلو!‘‘

ہانیہ عامر نے اس بولڈ پیغام کا جواب اپنے خاص برجستہ انداز میں کچھ یوں دیا: ’’لائن میں لگ!‘‘ گویا وہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ ان کے چاہنے والوں کی فہرست کافی طویل ہے، اور فی الحال وہ سنگل لائف کا خوب مزہ لے رہی ہیں۔

یہ نیا موڑ شائقین کے لیے باعثِ حیرت بھی ہے اور تفریح کا ذریعہ بھی۔ ایک طرف جہاں کچھ لوگ اسے معصوم دوستی کا اظہار قرار دے رہے ہیں، وہیں دیگر افراد کےلیے یہ اقدار اور حدود کے حوالے سے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا: ’’بھئی، ان سب کی پاکستان میں اجازت نہیں ہے!‘‘ تو کسی اور نے یشما کی نیت پر شبہ کرتے ہوئے کہا: ’’یشما جی میں کچھ تو گڑبڑ ہے!‘‘

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ہانیہ عامر یشما گل

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام