غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے راشن حاصل کرنے کے لیے آنے والے فلسطینیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوار کے کے روز امدادی سامان تقسیم کرنے کے پوائنٹ پر اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر ہجوم پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں کم از کم 30 فلسطینیوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران افراتفری، اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 فلسطینی شہید

رفح میں موجود اسپتال کے حکام نے 30 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں زخمی ہونے والے 175 افراد کا اسپتال میں علاج ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ انٹرنیشنل ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے بھی امدادی سامان کی تقسیم کے دوران ہونے والی فائرنگ سے متعدد ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے راشن لینےکے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر فائرنگ کی تردید کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے انہوں نے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں امداد 3 ماہ بعد بحال لیکن فراہمی انتہائی کم

تاہم امداد تقسیم کرنے والے اسرائیلی حمایت یافتہ ادارے ایسے کیسے بھی واقعے کی تردید کی۔

دوسری طرف اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی طرف سے غزہ میں امدادی سامان کی غیرجانبدار تنظیموں کے بجائے امریکا اور اسرائیل کی زیر نگرانی تقسیم کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان کی فراہمی پر 2 مارچ سے پابندی لگی تھی جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو خوراک اور ادویات سمیت بنیادی ضرورت کی اشیا کی شدید قلت کا سامنا رہا اور بچوں سمیت کئی افراد کی بھوک کی وجہ سے اموات بھی ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ دنیا کا ’سب سے بھوکا علاقہ‘ قرار، اقوام متحدہ کا انتباہ

گزشتہ ماہ اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان کے غزہ میں داخلے پر پابندی جزوی طور پر اٹھایا گیا۔

امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی بحال کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محدود پیمانے پر بھیجی جانے والی یہ مدد 20 لاکھ سے زیادہ بھوکے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امدادی سامان غزہ فائرنگ قحط ہلاکتیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فائرنگ ہلاکتیں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران غزہ میں امدادی سامان کی اسرائیل کی کی جانب سے کرنے کے کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق

ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم