کانگریس رہنما نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی  سے سخت سوالات کرکے ان کی ہندو انتہا پسندوں پر نوازشات کا پردہ چاک کردیا۔

انڈین نیشنل کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے مودی کے جھوٹے دعووں کو آڑے ہاتھوں لیا اور پوچھا کہ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگانے والے وزیراعظم مودی بی جے پی کے ریپ کیسز پر خاموش کیوں ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ایم ایل اے راج کشور کیسری پر 2010 میں ریپ کے الزامات ہیں، اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ مودی نے ان کا دفاع کیا۔ اسی طرح ہریانہ کے سابق اسپورٹس منسٹر سندیپ سنگھ پر بھی جنسی ہراسانی کا الزام ہے اور اس پر بی جے پی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

ڈاکٹر شمع محمد نے کہا کہ اولمپک میڈلسٹ کھلاڑیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے برج بھوشن شرن سنگھ کو بی جے پی نے بچایا۔ جنسی ہراسانی کے الزامات بی جے پی لیڈرز پر ہیں  مگر ایکشن صفر ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس طرح سے بیٹیوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟۔

ڈاکٹر شمع محمد کا کہنا تھا کہ مودی کا پیغام ہے کہ ریپسٹ پارلیمنٹ کے اندر اور متاثرین جیل کے اندر بھیجے جائیں گے۔ عوام نہیں بھولے کہ کیسے بلقیس بانو کے ریپسٹ کو رہائی پر مالا پہنائی گئی اور الیکشن مہم میں تقریر کے لیے بھی خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔

اسی طرح منی پور میں جب عورتوں کے ریپ ہوئے تو ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی اور جب وہاں کی گورنر نے شکایت کی تو اسی کو نکال دیا گیا۔ بہار میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، لیکن مودی خاموش ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بی جے پی کے ریپ

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان