لاہور (نوائے وقت رپورٹ) پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 52 سیالکوٹ سمبڑیال کے ضمنی الیکشن میں پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا، شام 5 بجے تک جاری رہی۔تمام 185 پولنگ سٹیشنوں کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگ کی حنا ارشد وڑائچ 78419 ووٹ لے کر کامیاب رہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار فاخر نشاط گھمن ٰ40037 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے لیے کل رات سے ہی آر او آفس کے باہر کنٹینرز کی دیواریں بنا دی گئی تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سمبڑیال میں ہر جگہ پولنگ سٹیشنز سے ہمارے نمائندوں کو نکالا گیا، پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹوں کو مارا گیا اور تشدد کیا گیا، پولنگ سٹیشن میں ن لیگ والے رہے، ہمارے ایجنٹس کو اندر جانے نہیں دیا جا رہا۔ چیف الیکشن کمشنر مدت مکمل ہونے کے باوجود بیٹھے ہیں تو کیا کر رہے ہیں؟ جو ہیلپ لائنز ان لوگوں نے بنائی ہیں وہ کل سے مصروف رکھی گئی ہیں، صبح سے کسی بھی سٹیشن پر کوئی چیک اینڈ بیلنس پالیسی نظر نہیں آئی۔ الیکشن کمشنر نے پی پی 52 سیالکوٹ میں ضمنی انتخاب کے دوران پیپلز پارٹی کے امیدوار کی جانب سے ویڈیو پیغام کے ذریعے لگائے گئے الزامات کا نوٹس لے لیا۔ متعلقہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کو حقائق دریافت کر کے رپورٹ جمع کروانے کے احکامات جاری کر دئیے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار کی جانب سے کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار نے الزامات سے متعلق کوئی شواہد بھی پیش نہیں کئے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کے مطابق امیدوار کی جانب سے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن سرکاری مشینری کے بغیر کبھی الیکشن نہیں جیت سکتی۔ مسلم لیگ ن کے پاس کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی حکمت عملی، مسلم لیگ ن والے فارم 47 تیار کرنے کے ماسٹر ہیں۔  وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں کارکنوں سے خطاب میں کہا ہے کہ پنجاب بھر سے انتخابی مہم میں حصہ ڈالنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ جیت ان تمام کارکنوں کے نام جنہوںنے گلی محلے میں الیکشن مہم چلائی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی حقدار ہے۔ اسی طرح الیکشن لڑتے رہے تو کوئی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی۔ بھارت سے فتح حاصل کی‘ جیت میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔اس موقع پر کارکنوں نے جشن بھی منایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار