دبئی میں بطور ویٹرس کام کرنے والی لڑکی مس یونیورس فلپائنز 2025 کی امیدوار کیسے بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
’مجھے نہیں پتہ تھا میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہی ہوں۔ میں تو بس جینے کی کوشش کر رہی تھی‘ یہ الفاظ تھے 24 سالہ ریچل کے جنہوں نے دبئی کے ایک ریستوران میں بطور ویٹرس کام شروع کیا لیکن جلد ہی وہ ٹک ٹاک اسٹار اور مس یونیورس فلپائنز 2025 کی امیدوار بن گئیں۔
یہ کہانی کیمرے کے پیچھے ایک ایسی عورت ہے جو مس یونیورس فلپائنز 2025 میں خود ہی اپنا میک اپ اور بال بناتی تھی، جو بغیر کسی اسٹائلسٹ یا ٹیم کے فلپائن واپس گئی، اور جس نے لپ اسٹک کا رنگ اپنے بھائی کی رائے پر چنا۔ وہ مس یونیورس فلپائنز کے مقابلے میں اورینٹل مندورو کی نمائندگی کر رہی تھیں، جو منیلا سے 140 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ایک صوبہ ہے۔
ریچل نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دسمبر 2022 میں جب وہ پہلی بار دبئی آئیں، تو اُن کا مقصد شہرت، تاج یا ٹک ٹاک فالوورز حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے والد کے کووڈ کے دوران انتقال کے بعد صرف اپنے خاندان کا سہارا بننا چاہتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت مشکل تھا۔ میں سورج کی گرمی میں لمبے وقت تک کام کرنے کی عادی نہیں تھی۔ لیکن مجھے پتہ تھا کہ کچھ کرنا ہوگا۔
وہ کہتی ہیں جب وہ گلف نیوز کے دفتر آئیں اس وقت وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ اُن کی یہ محنت، صبر، اور خاموش خواب ایک دن انہیں وائرل فیم اور مس یونیورس فلپائنز 2025 جیسے بڑے مقابلے میں لے جائے گا۔ 13 سال کی عمر سے اب تک 170 سے زائد مقابلوں میں حصہ لینے والی ریچل بتاتی ہیں کہ میری سب سے پہلی دلچسپی حسن کے مقابلے رہے ہیں اور دبئی میں کام اور وطن کی یاد میں اس خواب کو دوبارہ جینا شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ انجوائمنٹ کے لیے ایک ویڈیو بنا کر دیکھتے ہیں، لیکن وہ ویڈیو اچانک وائرل ہو گئی جس سے میں حیران رہ گئی۔ یہ ویڈیو محض ایک مشغلے کے طور پر شروع ہوئی، لیکن جلد ہی ان کی زندگی بدل گئی۔ ریچل بتاتی ہیں کہ میں نے خود سے کہا کہ اگر لوگوں کو یہ پسند آیا ہے تو شاید میں اور بھی کر سکتی ہوں اور انہوں نے واقعی بہت کچھ کیا۔ آج ریچل کے صرف ٹک ٹاک پر 1.
مس یونیورس فلپائنز 2025 کی امیدوار کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس کوئی ٹیم نہیں تھی، کوئی گلیم اسکواڈ نہیں۔ میں اپنے بھائی سے پوچھتی تھی آج کے ایونٹ کا کیا رنگ ہے اور پھر اپنا میک اپ ویسا کرتی،‘ وہ کہتی ہیں ’یہ تھکا دینے والا تھا، لیکن ناقابلِ فراموش تھا اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا، دبئی نے مجھے شکر گزار ہونا سکھایا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہاں تمام فلپائنی بس محنت سے کام کرتے ہیں اور پیسے گھر بھیجتے ہیں۔ مجھے کبھی اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کی کمیونٹی سے اتنی محبت ملے گی‘۔
یہ بھی پڑھیں: ‘مس یونیورس’ کا تاج 60 سالہ حسینہ نے سجا لیا
اپنی کامیابیوں کے بارے میں وہ مزید بتاتی ہیں کہ انہیں حیرت ہوئی جب متحدہ عرب امارات میں فلپائنی لوگ انہیں مالز اور ریستورانوں میں پہچان کر خوشی کا اظہار کرنے لگے۔ اور جس ہفتے مس یونیورس کی کہانی لکھی، میرے بچوں کے اسکول کی 3 فلپائنی ماؤں نے کہا کہ وہ کتنی فخر محسوس کرتی ہیں، جس پر میں نے ان سے کہا کہ آپ نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔
اپنے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے تاج نہیں جیتا لیکن جب لوگ میرے ٹاپ 12 میں نہ آنے پر رو رہے تھے تب میں نے جانا کہ میں ان کے دل پہلے ہی جیت چکی ہوں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ مکمل ہوں، جسم، چہرہ، جواب سب کچھ پرفیکٹ ہو لیکن میں ہمیشہ خود کو یاد دلاتی تھی کہ میں یہاں کیوں ہوں۔ میرا مقصد لوگوں کو متاثر کرنا تھا، صرف تاج جیتنا نہیں۔
ریچل کا کہنا تھا کہ ’میں خود کو خودساختہ اس لیے کہتی ہوں کیونکہ میں نے یہ سب خود بنایا۔ نہ کوئی مینیجر، نہ کوئی ٹیم۔ بس میں خود تھی‘۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگرچہ انہیں مشہور ہونے سے بہت مواقع ملے، لیکن وہ سوشل میڈیا کے نقصانات سے بھی واقف ہیں۔ ’لوگ سمجھتے ہیں وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ ذاتی زندگی تو جیسے ختم ہو گئی۔ اس لیے کبھی کبھار میں بریک لیتی ہوں۔ سوشل میڈیا ڈیٹاکس واقعی ضروری ہے‘۔
ٹک ٹاکر کہتی ہیں کہ اگر میں اپنے خاندان کی مدد کر سکی، اور کسی ایک شخص کو بھی خوابوں کے پیچھے بھاگنے کی ہمت دے سکی، تو یہی میری کامیابی ہے۔ اپنے خواب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’نہ بیوٹی پیجینٹس، نہ ٹک ٹاک، میں فنکار بننا چاہتی تھی اور یہی میرا پہلا خواب تھا میں ٹی وی پر آنا چاہتی تھی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی موقع ملا، تو میں تیار ہوں۔ ڈرامہ، ہارر، کچھ بھی۔ بس خود کو ظاہر کرنے کا موقع ہو اور اگر کسی فلم کی آفر آئی تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹک ٹاکر مس یونیورس فلپائنز 2025
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر مس یونیورس فلپائنز 2025
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔