لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں پیسے کے نشے میں دھت افراد کے نوکری پیشہ اور متوسط طبقے  پر مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور آئے روز کوئی نہ کوئی ویڈیو منظر عام پر آتی رہتی ہے لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہتی ہے جس سے انصاف کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھتے رہتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ایسا ہی ایک واقعہ ڈیفنس کے فیز 6 میں پیش آیا جہاں بائیک کی ٹکر گاڑی سے ہونے پر مارکیٹنگ کمپنی اور میڈیا ہاوس ’’BIONIC‘‘  کے مالک سلمان فاروقی کا فرعونیت بھرا روپ دیکھنے کو ملا، اس شخص نے نہ صرف موٹر سائیکل والے کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ساتھ کھڑی خاتون ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی رہی لیکن اس  شخص  کو نہ تو پولیس کا ڈر تھا نہ ہی عدالت کا ۔بلکہ اس نے خود کو  ہی قانون اور عدالت کا درجہ دیتے ہوئے فوری وقت پر سزا سنادی ۔ پولیس کی جانب سے اب تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیااور اس غریب کی فریاد کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون کے اندھیروں میں دفنا دیا جائے گا ۔

ویڈیو: پی ٹی آئی کا کنگ آف کنفیوژن کون؟

انتہائی افسوسناک پارٹ 1
ڈیفینس فیز 6 میں موٹر سائیکل کی ٹکر لگنے پر مارکیٹنگ کمپنی اور میڈیا ہاؤس BIONIC کے مالک سلمان فاروقی نے موٹر سائیکل والے کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا ????‍♂️
خواتین ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگتی رہیں مگر سلمان فاروقی تشدد کرتا رہا ????‍♂️ pic.

twitter.com/c6jw2Uhihw

— GHQ 111 Brigade™️ (@Move111Forward) June 2, 2025

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سلمان فاروقی

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں