شرمیلا فاروقی کا مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
ایک بیان میں شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن شادی کو بلوغت سے جوڑتے ہيں، جبکہ اسلام اور آئینِ پاکستان انصاف، تحفظ اور انسانی وقار پر زور دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن شادی کو بلوغت سے جوڑتے ہيں، جبکہ اسلام اور آئینِ پاکستان انصاف، تحفظ اور انسانی وقار پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25 ۔1 واضح کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی حق دار ہیں، جبکہ آرٹیکل 25-2 کہتا ہے کہ جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہم ایسے طریقوں کا جواز پیش نہیں کر سکتے جو بنیادی انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شادی کی کم از کم عمر بڑھانا انصاف کی طرف ایک قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحم ن شرمیلا فاروقی نے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔