نقد خریداری کی حوصلہ شکنی پر مبنی تجاویز فنانس بل کا حصّہ بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
— فائل فوٹو
نقد خریداری کی حوصلہ شکنی پر مبنی تجاویز فنانس بل کا حصّہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق پیٹرول پمپ سے نقد تیل خریدنے پر 3 روپے تک اضافی وصولی کی تجویز دی گئی ہے، اس سے پٹرول پمپ پر ٹیکس چوری اور ملاوٹ پر قابو پانے میں مدد ملے گی، پیٹرول پمپس پر نقد کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈز، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ادائیگی کے اقدامات کیے جائیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان نقد فروخت پر اضافی 2 فیصد ٹیکس لے سکیں گے، اس تجویز کو قابل عمل بنانے کے لیے کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ متعدد اجلاس ہو چکے ہیں، دکانوں سے نقد خریداری پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ریسٹورنٹس پر پہلے ہی کارڈ سے ادائیگی کرنے پر ٹیکس کی چھوٹ ہے۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کی مد میں زیادہ ریلیف نہیں مل سکے گا، تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف معمولی نوعیت کا ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ خریدار زیادہ ٹیکس ادا کرنے کے بعد نقد ادائیگی کرنے میں آزاد ہوں گے، درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کو اپنے سپلائرز اور خریداروں سے ڈیجیٹل ادائیگیوں پر معیاری 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کرنا ہو گا، ادائیگیاں بھی سادہ کیو آر کوڈز اور دیگر ڈیجیٹل حل کے ذریعے دستیاب ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق یونٹ مینیجر، جیولرز، شادی ہالز، ڈاکٹرز اور وکلاء کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوئی تجویز نہیں دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز