سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 100 ارب روپے کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
اسلام آباد: وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ایک سو ارب روپے کی کمی ہے۔ رواں سال ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 250 سو ارب روپے بلوچستان کو دیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ این ٹوئنٹی فائیو ترجیحی بنیادوں پر بنائی جائے گی۔ سکھر حیدرآباد موٹروے بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے وسائل میں اضافہ کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ 11ویں بار کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہا ہوں، پائیدار ترقی کیلئے پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے، ترقیاتی بجٹ معیشت میں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ضروری ہے، ترقیاتی بجٹ بڑھانے کیلئے قومی سطح پر ریونیو میں اضافہ ناگزیر ہے، ٹیکس نظام کو مؤثر بنانا اور اصلاحات قومی سلامتی کا تقاضا ہے، ترقیاتی بجٹ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے وسائل کی دستیابی یقینی بنانی ہے۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہاکہ منصوبہ بندی کمیشن میں منصوبوں کی پڑتال کے نظام کو بہتر بنایا ہے، منصوبوں کی پڑتال کے مؤثرنظام سے خطیر رقوم کی بچت ممکن ہوئی، ایچ ای سی کے منصوبوں کو ترجیح بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 250 ارب بلوچستان کو ملیں گے، کوئٹہ کراچی شاہراہ این 25 بنے گی، سکھر حیدرآباد موٹر وے ترجیحات میں شامل ہے۔ ہمیں اپنے وسائل میں اضافہ کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ترقیاتی بجٹ احسن اقبال میں اضافہ ارب روپے نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا