بہنوں کے سامنے نوجوان پرتشدد کرنیوالا ملزم سلمان فاروقی گرفتار، ’یہ بس ایک فوٹو سیشن ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کراچی میں موٹرسائیکل سوار نوجوان پر بہنوں کے سامنے تشدد کرنے والے ملزم سلمان فاروقی کو گرفتار کرلیا گیا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر سلمان فاروقی کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔ صارفین کی ایک بڑی تعداد اس گرفتاری پر تبصرے کرتی نظر آ رہی ہے اور کئی صارفین ملزم کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وقاص خان نے لکھا کہ ایک غریب پر اس کی بہن کے سامنے تشدد کرنے والا انسان نما درندہ سلمان فاروقی بالآخر گرفتار ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے سوچیں اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو سندھ پولیس ایک سرمایہ دار کو ہرگز گرفتار نہ کرتی۔
ایک غریب پر اس کی بہن کے سامنے تشدد کرنے والا انسان نما درندہ سلمان فاروقی بالآخر گرفتار ہو گیا، ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتی تو سندھ پولیس ایک سرمایہ دار کو گرفتار کرتی ہر گز نہیں ۔۔۔#Salmanfarooqi pic.
— Waqas Khan (@waqas_views) June 2, 2025
عادل محمود نے کہا کہ یہ بس ایک فوٹو سیشن ہے۔ جیل کا لاک بھی کھلا ہوا ہے۔
#Salmanfarooqi یہ بس ایک فوٹو سیشن ہے۔ جیل کا لاک بھی کھلا ہے pic.twitter.com/nxpjkOdgiK
— Adil Mahmood (@adilbinmahmood) June 2, 2025
ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے دباؤ کے باعث آج یہ شخص پابند سلاسل ہے۔
سوشل میڈیا کے دبائو کے
باعث آج یہ پابند سلاسل ہے #Salmanfarooqi pic.twitter.com/EMT5gRQDCV
— Malik Alam Zaib???????? (@malikalamzaib5) June 2, 2025
محمد قاسم نے لکھا کہ الحمدللہ اب دل کو کچھ سکون ملاہے۔ ظالم حوالات میں ہے اللہ کریم مظلوم فیملی کو انصاف دے۔
الحمدللہ اب دل کو کچھ سکون ملاہے۔
Power of Social Media!
ظالم حوالات میں، اللہ کریم مظلوم فیملی کو انصاف دے۔ آمین#بے_حسِ_کراچی#NoMoreEliteAbuse#Salmanfarooqi#WorldWar3#viralvideo#Karachi pic.twitter.com/vQUkCHoOKw
— (محمد قاسم تاج اعوان) MQTA (@AawanOnline) June 2, 2025
عمران احمد کہتے ہیں کہ ظالم سلاحوں کے پیچھے ہے۔
ظالم سلاحوں کے پیچھے ۔۔#Salmanfarooqi pic.twitter.com/ZKX6cv0GTO
— Imran Ahmed Mani (@imranahmedmani) June 2, 2025
ایک صارف کا کہنا تھا کہ سلمان فاروقی پکڑا تو گیا لیکن دروازے کی کنڈی کھلی ہوئی ہے لگتا ایسا ہے کہ بس تصویر لی اور کہا جی سامنے والے روم میں آجائیں وہاں کا اے سی صحیح کام کررہاہے ۔
سلمان فاروقی پکڑا تو گیا لیکن دروازے کی کنڈی کھلی ہوئی ہے لگتا ایسا ہے کہ بس تصویر لی اور کہا جی سامنے والے روم میں آجائیں وہاں کا اے سی صحیح کام کررہاہے ۔#salmanfarooqi pic.twitter.com/wG35qIAmCR
— M Shoaib Maroofi (@ShoaibMaroofi) June 2, 2025
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کراچی کے علاقے ڈیفنس میں کار سوار ایک شخص کی جانب سے نوجوان پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں متاثرہ نوجوان اپنی بہن کی جانب سے بار بار معافی مانگنے کے باوجود بھی تشدد کا سامنا کرنے سے نہ بچ سکا۔ وائرل ویڈیو میں موٹر سائیکل سوار شخص کی بہنیں ساتھیوں کے ساتھ تشدد کرنے والے شخص کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہی تھیں۔
پولیس کے مطابق موٹرسائیکل سوار شخص اپنی بہنوں کے ساتھ جارہا تھا کہ موٹر سائیکل کی کار سے ٹکر ہوگئی، کار سوار شخص نے موٹر سائیکل سوار شخص پر ساتھیوں کے ساتھ مل کر تشدد کیا، موٹر سائیکل سوار شخص کی بہنیں کار سوار شخص کی منتیں کرتی رہیں لیکن بہنوں کی منت سماجت پر بھی نوجوان کو نہیں چھوڑا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سلمان فاروقی کراچی تشدد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سلمان فاروقی کراچی تشدد سائیکل سوار شخص سلمان فاروقی موٹر سائیکل سوشل میڈیا کے سامنے شخص کی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔