قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس پرسوں طلب ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد (نیٹ نیوز) قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) جمعرات کو آئندہ مالی سال کیلئے 3795 ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے گی۔ پنجاب کیلئے آئندہ سال 1188 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور ہو سکتا ہے۔ آئندہ مالی سال سندھ کیلئے 887 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور ہو سکتا ہے۔ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس 5 جون (جمعرات) کو وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہو گا۔ اجلاس میں وزرائے اعلیٰ پنجاب، سندھ، خیبر پی کے، بلوچستان، گلگت بلتستان بھی شریک ہوں گے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب این ای سی کے اجلاس میں بجٹ پر وزیراعظم شہبازشریف کو بریفنگ دیں گے۔ قومی اقتصادی کونسل میں آئندہ بجٹ کیلئے خدوخال کی منظوری دی جائے گی۔ وزرات خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ خیبر پی کے کیلئے آئندہ سال کا 440 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور ہو گا۔ بلوچستان کے لیے 280 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور ہو سکتا ہے، ترقیاتی بجٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شراکت داری کی منظوری ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: قومی اقتصادی کونسل کی منظوری
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔