18 وزارتوں کیلیے اربوں روپے کی تکنیکی گرانٹس منظور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے 18 وزارتوں کیلئے اربوں روپے کی تکنیکی گرانٹس کی منظوری دیدی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف محکموں کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس منظور کر لی گئیں جبکہ آئی ایس پی آر کی تکنیکی اپ گریڈیشن کے لیے بھی خصوصی گرانٹ منظور کر لی گئی ہے۔
ای سی سی اجلاس میں وزارت خزانہ کے لیے 1.
وزارت خزانہ کے لیے 5.6 ارب روپے کی تکنیکی گرانٹ منظور کی گئی ہے، یہ فنڈز اے ڈی بی کے خواتین کی شمولیت کے منصوبے کیلئے روپے کے مساوی رقم کی فراہمی پر خرچ ہوں گے اس کے علاوہ وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات کے لیے 23 کروڑ کی گرانٹ منظور کر لی گئی ہے جو کہ رقم سول آرمڈ فورسز کی اضافی مالی ضروریات کے لیے فراہم کی جائے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات کے لیے 6 کروڑ 40 لاکھ کی گرانٹ ، وزارتِ پارلیمانی امور کے لیے پانچ کروڑ کی،پٹرولیم ڈویژن کے لیے 9 کروڑ روپے کی تکنیکی گرانٹ کی منظوری دیدی گئی ہے ۔رقم صوبہ پنجاب میں گیس اسکیموں کے نفاذ کے لیے دی جائے گی۔
اس کے علاوہ غربت کے خاتمے و سماجی تحفظ کے لیے 10 کروڑ روپے ، وزارت اطلاعات کے لیے ایک ارب 88 کروڑ کی تکنیکی گرانٹ منظورہو گئی ہے رقم اشتہاری واجبات اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کے لیے دی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کے لیے 2.150 ارب روپے، وزارت دفاع کے لیے 1.70 ارب روپے کی تکنیکی گرانٹ کی منظوری کی گئی ہے، یہ رقم آئی ایس پی آرکی تکنیکی اپ گریڈیشن کے لیے دی جائے گی جبکہ وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کے لیے 40 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کر لی گئی ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے لیے 40.34 ارب روپے کی تکنیکی گرانٹ منظور کر لی گئی ہے، یہ رقم مالی سال 25-2024 کے نظرثانی شدہ قلیل مدتی غیر ملکی قرضوں کی واپسی کیلئے دی جائےگی۔
وزارت قانون و انصاف کے لیے 22 لاکھ روپے سے زائد کی گرانٹ منظور کی گئی ہے جو کہ اسلام آباد میں ضلعی عدالتوں کے قیام سے متعلق منصوبے پر خرچ ہو گی۔ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کیلئے ساڑھے27 لاکھ روپے،پاور ڈویژن کے لیے 75 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری کی گئی ہے جو کہ وزیراعظم کے یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام اور ترقیاتی اخراجات کے لیے دی جائے گی۔
وزارتِ داخلہ کے لیے 1.2 ارب روپے کی ایک اور تکنیکی گرانٹ منظور کی گئی ہے یہ رقم شنگھائی تعاون تنظیم کےرکن ممالک کے سربراہان کے 23 ویں اجلاس کے انعقاد کیلئے دی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق وزارت امورِ کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 14 ملین روپے ، وزارت خزانہ کے لیے 294 ملین روپے کی گرانٹ منظور کر لی گئی ہے1145 میگاواٹ کراچی نیوکلیئر پلانٹ یونٹ 2 اور 3 کیلئے سہ فریقی پاور پرچیز معاہدے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے تاہم پیٹرولیم ڈویژن کی طرف سے مشکے، تھلیاں، تاروجبہ وائٹ آئل پائپ لائن سےمتعلق سمری موخر کر دی گئی ہے۔
ای سی سی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دیدی ہے۔ اسکے علاوہ سی ڈی اے میں ضم ہونے والے پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فنڈز،سرکاری ملازمین کے لیے اعزازیہ پالیسی کی منظوری دی گئی۔
علاوہ ازیں حیدرآباد اور کراچی پیکج کا کنٹرول سندھ سے واپس لینے، خواتین مالیاتی منصوبے کے تحت سپورٹ فنڈ ٹرسٹ کے قیام، سی ڈی اے کو اسلام آباد میں ضلعی عدالتوں کے منصوبے کے لیے فنڈز کی واپسی کی بھی منظوری دیدی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی گرانٹ منظور کر لی گئی ہے تکنیکی گرانٹ منظور کے لیے دی جائے گی وزارت خزانہ کے کی منظوری دی کی گرانٹ کی کروڑ روپے کی گئی ہے یہ رقم
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔