بھارت کیساتھ حالیہ تنازع میں اپنے وسائل پر انحصار کیا، کہیں سے مدد نہیں لی: چیئرمین جوائنٹ چیفس
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
بھارت کیساتھ حالیہ تنازع میں اپنے وسائل پر انحصار کیا، کہیں سے مدد نہیں لی: چیئرمین جوائنٹ چیفس WhatsAppFacebookTwitter 0 3 June, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس) پاکستان کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہےکہ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع میں پاکستان نے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور کہیں سے کوئی مدد نہیں حاصل کی گئی ۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تنازع میں96 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا، وہ مکمل طور پر پاکستان نے خود اپنے طور پر کیا۔
چین سے پاکستان کو مدد ملنے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے جو آلات استعمال کیے وہ یقیناً ایسے ہی ہیں جیسے بھارت کے پاس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کچھ ساز و سامان دوسرے ملکوں سے خریدا ہے مگر اس کے علاوہ حقیقی وقت میں صرف اور صرف پاکستان کی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کیا گیا، ہم نے کہیں سے کوئی مدد حاصل نہیں کی۔
خیال رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر ہونے والے حملے کو جواز بنا کر پہلے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا اور پھر 6 اور 7 مئی کی درمیانی شپ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر میزائل داغے جس کا پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیا۔
بھارت نے 10 مئی کو ایک بار پھر پاکستان کے نور خان ائیر بیس اور رحیم یار خان ائیر پورٹ پر میزائلوں سے حملے کیے جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا جس میں بھارت کے 3 رافیل طیاروں سمیت 6 لڑاکا طیارے گرائے اور آدم پور اور ادھم پور سمیت کئی ائیر فیلڈز اور ایمونیشن ڈپوز کو تباہ کردیا۔
پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو اپنی شکست نظر آنے لگی تو بھارت نے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے جنگ بندی کی درخواست کی جس کے بعد دونوں ممالک کے سیز فائر ہوئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آبادہائیکورٹ نے دامنِ کوہ سے ریڑھی بانوں کو بے دخل کرنے سے روک دیا سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات حل کرانے کیلئے متحرک کردار ادا کرے، بلاول بھٹو کراچی: ملیر جیل سے 216 قیدی فرار، شدید فائرنگ، ایک ہلاک، 3 ایف سی اہلکار زخمی وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک ٹیرف کے خلاف نیپرا میں اپیل دائر کردی اسلام آباد ، تھانہ سنبل کی حدود میں معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل بھارت کے جارحانہ اقدامات اور یکطرفہ فیصلے خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں، چین اور پاکستان میں اتفاق تسلیم کرتا ہوں لوگوں نے ہمیں ن لیگ کا ساتھ دینے کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا، ندیم افضل چنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پر انحصار کیا کہیں سے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز