پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسلام آباد:
رواں مالی سال2024-25 کے 10 ماہ (جولائی تا اپریل)کے دوران آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 3 ارب 14کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کو پیش کردہ تحریری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 19 فیصد جب کہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جولائی سے اپریل تک آئی ٹی برآمدات 3 ارب 14 کروڑ ڈالر سے زائد رہیں۔
وزارت آئی ٹی کے مطابق اس دوران پاکستان میں آئی ٹی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی جب کہ اس بارے میں ترجمان وزارت آئی ٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کی برآمدات تمام خدمات میں سب سے زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ڈیجیٹل خدمات کے شعبے میں ابھرتا ہوا مرکز بنا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ٹی برآمدات
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔