تمباکو برآمدات 100 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں، انڈسٹری کو استحکام دیں گے، وفاقی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ تمباکو برآمدات 100 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، حکومت انڈسٹری کو استحکام دے گی۔
چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے تفصیلی ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بتایا کہ تمباکو کی برآمدات 100 ملین ڈالر سے تجاوز کرنا خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے منصفانہ قیمت کے تعین میں ٹوبیکو بورڈ کا کردار قابل ستائش ہے۔ ٹوبیکو انڈسٹری کو مستحکم رکھنے کے لیے پالیسی تسلسل جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر نے بورڈ کو ہدایت کی کہ ریسرچ اور ویلیو ایڈڈ پراڈکٹس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے رجسٹریشن، ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیٹا کلیکشن کے جدید نظام پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے کسانوں کی فلاح کے لیے بورڈ کی سپورٹ اسکیمیں قابل تقلید ہیں۔
اجلاس میں چیئرمین کی جانب سے فصل کی مانیٹرنگ اور مارکیٹ ریگولیشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ دیہی معیشت میں بورڈ کا کردار معاشی استحکام کی جانب مثبت قدم ہے۔ بورڈ انڈسٹری اور کسان کے درمیان پُل کا مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ نئی مارکیٹ ایکسپلوریشن پالیسی برآمدات میں اضافے کی ضامن ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر وزارت اور بورڈ کے درمیان پالیسی ہم آہنگی مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ