پاکستان اور ایران کے درمیان شعبہ مواصلات میں تعاون بڑھانے کی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پاکستان اور ایران کے درمیان شعبہ مواصلات میں تعاون بڑھانے کی یادداشت پر دستخط WhatsAppFacebookTwitter 0 3 June, 2025 سب نیوز
تہران (سب نیوز)پاکستان اور ایران کے درمیان مواصلات کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں اقتصادی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے تہران میں ایران اور قازقستان کے وزرا نے ملاقاتیں کیں۔ باہمی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان مواصلات کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوگئے۔
ایرانی وزیر روڈ و شہری ترقی فرزانہ صادق نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور پاکستانی وفد کا خیر مقدم کیا۔ فرزانہ صادق سے ملاقات میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران دیرینہ مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ تہران میں ای سی او کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، اس سے خطے پر مثبت اثرات ہوں گے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان مواصلات کے شعبے میں باہمی تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کر دیئے گئے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے تقریب میں شرکت کی۔ کہا دونوں ممالک باہمی تعاون کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں گے۔قازقستان کے وزیر ٹرانسپورٹ مارات کارابائیف بھی عبدالعلیم خان سے ملے۔ دونوں رہنماں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں تک زمینی رابطے بڑھانا چاہتا ہے۔ ای سی او اجلاس علاقائی رابطوں کے فروغ کا باعث بنے گا۔ قازقستان کے وزیر ٹرانسپورٹ نے پاکستان کے ساتھ باہمی تعاون بالخصوص روڈ انفراسٹرکچر میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ ملاقات کے دوران تحائف کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلاہور میں قاتل ڈمپر بے قابو، انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی ناقابلِ قبول ہے، محمد سرور چوہدری لاہور میں قاتل ڈمپر بے قابو، انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی ناقابلِ قبول ہے، محمد سرور چوہدری وفاقی بجٹ 2025-26کی تیاریاں مکمل، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس طلب مودی خطے کیلئے بڑا خطرہ، سیاسی مفاد کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، خواجہ آصف تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس ریلیف میں اہم پیشرفت، آئی ایم ایف شرح کم کرنے پر آمادہ ملزم ثنایوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا، مسلسل پیشکش مسترد ہونے پر انتہائی قدم اٹھایا،آئی جی اسلام آباد کا دعوی پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی عائد کیے جانے کا امکان، مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور ایران کے درمیان کی یادداشت پر دستخط میں تعاون بڑھانے عبدالعلیم خان قازقستان کے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔