غزہ میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک، 2 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شمالی غزہ کے جبلیہ علاقے میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں اُس کے 3 فوجی مارے گئے جبکہ 2 زخمی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دھماکا اُس وقت ہوا جب اسرائیلی فوجیوں کی ایک گاڑی غزہ میں داخل ہونے کے لیے وہاں سے گزر رہی تھی۔
اسرائیلی فوج کے اہلکار غزہ میں ایک جلتی ہوئی بکتر گاڑی کو بجھانے کے لیے جانے والے فائر انجن کو تحفظ فراہم کرنے گئے تھے لیکن واپسی پر خود نشانہ بن گئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ دھماکا بارودی سرنگ تھا اور اُسی راستے پر تقریباً 20 مزید بم برآمد کیے جو پھٹنے سے رہ گئے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ عسکریت پسندوں نے اسرائیلی فوج کے قافلے کے راستے کا کیسے پتا لگایا اور بم کب نصب کیے۔
سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت اسٹاف سارجنٹ 20 سالہ لیور اسٹین برگ، اسٹاف سارجنٹ 20 سالہ اوفک برہانہ اور اسٹاف سارجنٹ 22 سالہ عمر وان گیلڈر کے ناموں سے ہوئی۔
خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کا یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔
غزہ میں حماس کے ساتھ دوبدو جنگ اور سرحدی تصادموں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 423 ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔