ماہرین نے عراق کی نہروں کا معمہ حل کر دیا، دلچسپ انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے جنوبی عراق میں موجود رجز (طویل ابھار) اور نہروں کے وسیع نیٹورک کی اصل کا پتہ لگا لیا۔
تحقیق میں حاصل ہونے والے نئے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ لکیریں (جو عرصے سے بڑے پیمانے پر موجود زرعی نظام کی باقیات سمجھی جاتی تھیں) ممکنہ طور پر غلام مزدوروں کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہوں۔
بین الاقوامی ماہرین ایک ٹیم نے کچھ ایسے شواہد حاصل کیے ہیں جس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے۔ اب تعمیرات کی ڈیٹنگ کرانے کے بعد ٹیم کو معلوم ہوا ہے کہ ان تعمیرات کا دورانیہ متعدد صدیوں پر پھیلا ہوا ہے جو کہ نویں صدی عیسوی میں ہونے والی غلاموں کی بغاوت کے وقت میں شروع ہوئی۔
اس دور کے غلاموں کو آج ’زنج‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ قرونِ وسطی کی ایک اصطلاح ہے جو مشرقی افریقی سواہلی ساحل کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اگرچہ اس متعلق مختلف نظریے ہیں کہ افریقا میں زیادہ تر زنج کہاں سے آئے تھے۔
غلاموں نے 869 عیسوی میں عباسیوں کے دور میں عراق میں بڑے پیمانے پر بغاوت کی جس کو آج ’زنج بغاوت‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ بغاوت ایک دہائی سے زیادہ عرصہ، اس وقت تک جاری رہی جب تک عباسیوں نے 883 عیسوی میں اس علاقے کا دوبارہ کنٹرول حاصل نہیں کر لیا۔
ان غلاموں کی نسلیں اب آج کے عراق میں جنوبی بندرگاہ کے شہر بصرہ میں رہتے ہیں۔
علاقے کی تاریخ اور سماجی ڈھانچے پر نئی روشنی ڈالنے والی یہ تحقیق جرنل اینٹیکٹی میں شائع ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔