پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی کا بین الاقوامی گروہ بے نقاب، 2 کارندے پکڑے گا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی اور ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والے بین الاقوامی گروہ کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں این سی سی آئی اے کے سربراہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ پاکستان میں ایک انٹرنیشنل گینگ کام کر رہا تھا جس نے چھوٹے بچوں کے لئے ایک کلب بنایا تھا، جہاں بچوں سے زیادتی کر کے اُن کی ویڈیوز بناکر انہیں ڈارک ویب پر فروخت کیا جاتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ گینگ کی سر برائی جرمن شہری کر رہا تھا جو کارروائی سے قبل فرار ہوگیا جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق پنجاب سے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ گروہ بچوں کو نازیبا ویڈیوز پر بلیک میل کرتا تھا جبکہ ڈارک ویب پر انہیں ہزاروں ڈالر میں فروخت کیا جاتا تھا۔ طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ اس دھندے میں کچھ متاثرہ بچوں کے والدین بھی ملوث پائے گئے ہیں۔
وزیرمملکت کے مطابق بچوں سے زیادتی کے حوالے سے 173مقدمات درج کئے گئے ہیں۔
ڈی جی این سی ای آئی اے وقار الدین سید نے بتایا کہ اسپیشل پرانچ نے مظفر گڑھ کے ایک گاؤں میں اس کلب کی موجودگی کی موجودگی کی اطلاع دی جس کے بعد تحقیقات کی گئیں تو ہوشربا انکشافات ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ گروہ کے اراکین نے وڈیو بنانے کے لئے باقاعدہ ایک رنگ بنایا تھا، جس میں جدید کیمرے اور لائٹنگ کا انتظام تھا، چھ سے دس سال کے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناکر ان کی ویڈیو بنائی جاتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ جرمن شہری نے یہاں آکر باقاعدہ ٹریننگ دی اور پھر مقامی سطح پر چار ملزمان نے اس دھندے کو شروع کیا، پہلے مرحلے میں ویڈیوز جرمن شہری کو بھیجی گئیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ڈی پی او مظفر گڑھ نے بھی ہماری پوری مدد کی جبکہ انٹرپول بھی این سی ای آئی اے کے ساتھ کام کرتا ہے اور ہمیں وہاں سے بھی اطلاع ملی تھیں۔ یہ گینگ طرز کا یہ پاکستان میں پہلا واقعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چائلڈ ایبوز کیس میں سزا بھی بڑھا دی گئی ہے، چودہ سے بیس سال تک اب سزا ہوگی اور اب ضمانت یا صلح بھی نہیں ہو سکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔