پاکستان میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والا عالمی گینگ پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
پاکستان میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز ڈارک ویب پر فروخت کرنے والا عالمی گینگ پکڑا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز کو ڈارک ویب پر بیچنے والا پاکستان میں انٹرنیشنل گینگ پکڑا گیا، گینگ مظفر گڑھ میں بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث تھا، سرغنہ جرمن باشندہ ہے، جس کی گرفتاری کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں، 23مئی کو 5گھنٹے طویل آپریشن میں 2افراد گرفتار ہوئے، 10بچے بازیاب کرائے گئے، 6 بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بھیجا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ڈی جی سائبر کرائم ایجنسی وقارالدین سید کے ہمراہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل گینگ پکڑا گیا جس کا سرغنہ جرمن باشندہ ہے، سرغنہ کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ گینگ مظفر گڑھ میں بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث تھا، بچوں کی ویڈیوز کو ڈارک ویب پر بیچا جاتا تھا۔ سائبر کرائم ونگ نے ایک بڑا نیٹ ورک پکڑا ہے۔ 23 مئی کو 5 گھنٹے طویل آپریشن کیا گیا، دو افراد گرفتار کیے گئے ۔ 10 بچے بازیاب کرائے گئے 5 بچوں کو چائلد پروٹیکشن بھیجا گیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ سائبر کرائم ونگ کا مقصد کسی کی آواز کو دبانا نہیں ہے، جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں، مالیاتی فراڈ سمیت آن لائن ہراسگی معاملات کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ہر ضلع میں سائبرکرائم ونگ کا دفتر بنانا چاہتے ہیں۔ سائبر کرائم ونگ کو روزانہ کی بنیاد پر شکایات موصول ہو رہی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم وقار الدین سید نے بتایا کہ بچوں کی ویڈیوز کو عالمی مارکیٹ میں بیچا جاتا ہے، بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز بنائی جاتی تھیں، 6 سے 10 سال کے 50 بچوں کی ویڈیوز بنائی گئیں۔ غریب خاندان کے بچوں کو استعمال کیا گیا۔
ڈی جی سائبر کرائم ایجنسی نے کہا کہ 50 بچوں کی ویڈیوز برآمد کی گئی ہیں، اس دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، ویڈیوز کو واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے بھیجا جاتا تھا۔وقارالدین سید نے کہا کہ قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں، انٹر پول کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، اس دھندے میں ملوث ملزمان کیخلاف کارروائی کی جا رہی ہے، بچوں کے جنسی استحصال پر سزا میں اضافہ کیا گیا ہے، بچوں کا جنسی استحصال اب ناقابل ضمانت جرم ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب حکومت کا بجلی کے بلوں میں کمی کیلئے پاور ٹیرف کم کرنے کا اعلان پنجاب حکومت کا بجلی کے بلوں میں کمی کیلئے پاور ٹیرف کم کرنے کا اعلان بھارت کا شہریوں کو نشانہ بنانا، پانی روکنا امن کیلئے خطرہ ہے، بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم کا این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے حصے پر کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان آسٹریلیا نے آئندہ برس وائٹ بال سیریز کیلئے دورہ پاکستان کی تصدیق کردی عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ 2کیس میں گواہوں کی شہادت قلمبند ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کا واقعہ، ڈی آئی جی جیل اور سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، شرجیل میمنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بچوں کے جنسی استحصال بچوں کی ویڈیوز گینگ پکڑا گیا پاکستان میں ڈارک ویب پر ویڈیوز کو میں بچوں میں ملوث
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔