لبنان : حزب اللہ کا رکن کے روپ میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنیوالا فنانشل ڈائریکٹر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
جنوبی لبنان کے ضلع النبطیہ کا قصبہ حاروف میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کرنے والے ایک نوجوان محمود ایوب کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا۔ اس گرفتاری کے بعد علاقے میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب یہ انکشاف ہوا ہے کہ زیر حراست شخص حزب اللہ کا رکن ہے اور راغب حرب ہسپتال کے فنانشل ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کی طرف سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس کی گرفتاری نے اس کے آبائی شہر حروف میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ علاقے کے متعدد رہائشیوں کو ہسپتال کا رخ کرنا پڑا۔ خاص طور پر چونکہ محمود ایوب کو حزب اللہ کے تمام مریضوں اور ہسپتال میں داخل ہونے والے ان کے اہل خانہ کے ناموں کا قطعی علم ہے۔
ہسپتال کے آپریشنز کی تفصیلات
محمود ایوب کے پاس کئی سالوں سے ہسپتال کے آپریشنز کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ زیر حراست شخص نے ان افراد کی معلومات اسرائیلی انٹیلی جنس کو لیک کی ہوں گی۔رپورٹس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس نے حاروف میں سرگرم تقریباً 700 کل وقتی حزب اللہ کے ارکان کے نیٹ ورک کے اندر کام کیا ہو گا۔ قابل ذکر ہے کہ محمود ایوب کو حزب اللہ کے سیکورٹی اپریٹس کے ساتھ مل کر اندرونی سکیورٹی فورسز کی انفارمیشن برانچ نے النبطیہ میں گرفتار کیا تھا۔
یہ گرفتاری حزب اللہ کے قریبی مذہبی گلوکار محمد صالح کی اسرائیل کے ساتھ تعاون کے الزام میں گرفتاری کے تقریباً تین ہفتے بعد عمل میں آئی ہے۔ حزب اللہ کو گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ تصادم کے دوران بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا جب اس نے غزہ میں حماس کی حمایت کا محاذ کھولا تھا۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ، ان کے جانشین ہاشم صفی الدین اور پارٹی کی “جہادی اور شرعی کونسل” کے دیگر افراد کے ساتھ ساتھ اس کے زیادہ تر اعلیٰ عسکری رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا ہے۔
ان نقصانات نے حزب اللہ کے نیٹ ورک کے اندر سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ایک بڑی خلاف ورزی کا مظاہرہ کیا جس کا سب سے زیادہ واضح طور پر مظاہرہ بڑے پیمانے پر “پیجر آپریشن” کے دوران سامنے آیا۔ ان دھماکوں کے نتیجے میں حزب اللہ کے سینکڑوں ارکان متاثر ہوئے تھے۔
دوست نے 20 سال قبل اسلام سے روشناس کروایا، حج کی سعادت ملنے پر خوشی کی انتہا ہے ،لوئیس ابی راشد
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: حزب اللہ کے محمود ایوب کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔